Bharat Express DD Free Dish

Congress again targets government: سی ڈی ایس کے بیان کے بعد کانگریس نے پھر سادھا حکومت پر نشانہ، آپریشن سندور میں ہندوستان کو ہونے والے نقصان پر پوچھا سوال

کانگریس پارٹی نے آپریشن سندور کے دوران ہندوستانی مسلح افواج کو ہونے والے ممکنہ نقصانات پر پھر سوالات اٹھائے ہیں۔

کانگریس لیڈر جے رام رمیش۔ (فائل فوٹو)

کانگریس پارٹی نے آپریشن سندور کے دوران ہندوستانی مسلح افواج کو ہونے والے ممکنہ نقصانات پر پھر سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے بلومبرگ کے ساتھ چیف آف ڈیفنس اسٹاف انل چوہان کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے ہفتہ کے روز سوال کیا کہ کیا مرکز جنرل انل چوہان کی طرف سے دی گئی معلومات کی روشنی میں جائزہ کمیٹی بنانے کے لیے اقدامات کرے گا؟

جے رام رامیشن نے 1999 میں اٹل بہاری واجپئی حکومت کا بھی حوالہ دیا، جس نے جنگ ختم ہونے کے صرف تین دن بعد ہندوستانی صحافی اور بین الاقوامی اسٹریٹجک امور کے تجزیہ کار کے سبرامنیم کی قیادت میں کارگل پر نظرثانی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ انھوں نے کہا ’’29 جولائی 1999 کو واجپئی حکومت نے ہندوستان کے اسٹریٹجک امور کے ماہر کے سبرامنیم کی سربراہی میں کارگل ریویو کمیٹی قائم کی تھی، جن کا بیٹا اب ہمارا وزیر خارجہ ہے۔‘‘

سی ڈی ایس نے کیا نقصان کا اعتراف

انھوں نے مزید کہا ’’اس کمیٹی نے اپنی تفصیلی رپورٹ پانچ ماہ بعد پیش کی تھی۔ اس کے بعد وہ رپورٹ 23 فروری 2000 کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی میز پر رکھی گئی۔ اب چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے سنگاپور میں جو انکشاف کیا ہے، کیا مودی حکومت بھی ایسا ہی قدم اٹھائے گی؟‘‘ واضح رہے کہ سنگاپور میں شنگری لا ڈائیلاگ کے موقع پر بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے سی ڈی ایس نے اعتراف کیا کہ مسلح افواج کو آپریشن کے ابتدائی مراحل میں نقصان اٹھانا پڑا، لیکن پھر پاکستان کے اڈوں پر سٹیک حملے کیے گئے۔

چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے انٹرویو میں دیے گئے بیانات نے ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے درمیان کتنا نقصان اٹھایا ہے۔ حالاں کہ حکومت نے کسی بھی نقصان سے انکار کیا ہے، تاہم پاکستان نے ہندوستانی جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے اور سی ڈی ایس نے اگرچہ چھ طیارے مار گرائے جانے کے دعوؤں کی تردید کی ہے، تاہم انھوں نے یہ مانا ہے کہ ہندوستانی طیارے گرے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read