آج ہی کے دن13 جولائی 1931 کو جموں و کشمیر میں ڈوگرہ حکمران ہری سنگھ کے خلاف مظاہرے کے دوران سری نگر جیل کے باہر اس کی فوج کی فائرنگ سے 22 افراد مارے گئے۔ نیشنل کانفرنس (NC) اس دن کو ‘شہیدی دیوس’ کے طور پر مناتی ہے، لیکن اس بار ضلع انتظامیہ نے اس پروگرام کی اجازت نہیں دی ہے۔این سی نے درخواست دی تھی اور اس کے صدر فاروق عبداللہ اور دیگر سینئر قائدین کی جانب سے نوہٹہ کے نقشبند صاحب قبرستان میں خراج عقیدت پیش کرنے کے اپنے منصوبے کا اظہار کیا تھا۔ لیکن ہفتہ (12 جولائی) کو سری نگر کے ضلع مجسٹریٹ نے اسے مسترد کر دیا۔
Public Advisory
The District Administration Srinagar has denied permission to all applicants intending to proceed towards Khawaja Bazar, Nowhatta on 13th July 2025 (Sunday).
The General Public is hereby advised to strictly comply with these instructions and refrain from…
— Srinagar Police (@SrinagarPolice) July 12, 2025
سری نگر پولیس نے ایک پیغام جاری کیا
سری نگر پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک عوامی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا کہ 13 جولائی کو خواجہ بازار، نوہٹہ کی طرف جانے کیلئے لوگوں کو اجازت نہیں دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی سے گریز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق پولیس نے خبردار کیا کہ احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ این سی نے انتظامیہ کے اس اقدام کو ‘انتہائی بدقسمتی’ قرار دیا ہے۔
“The Party General Secretary has formally sought permission from the district administration to visit the Martyrs Graveyard but has not received any response so far.” PP Kashmir Adv Showkat Mir. pic.twitter.com/Y9HolYXRP5
— JKNC (@JKNC_) July 12, 2025
پارٹی کے مرکزی ترجمان تنویر صادق نے ایکس پر لکھا، “13 جولائی کوئی عام تاریخ نہیں ہے، یہ ہمیں عزت، انصاف اور حقوق کے مطالبے میں دی گئی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام اپنے شہداء کو پرامن، احترام اور غیر متزلزل جذبے کے ساتھ یاد کرتے رہیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کی تنظیم نو سے پہلے اس دن کو عام تعطیل ہوتی تھی لیکن 2020 میں اسے گزٹڈ تعطیلات کی فہرست سے ہٹا دیا گیا تھا۔
محبوبہ مفتی نے اسپیکر کو نشانہ بنایا
ساتھ ہی پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی اس معاملے پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے پہلے پی ڈی پی کی 13 جولائی کو تعطیل کا اعلان کرنے کی تجویز کو مسترد کیا اور پھر اس کی بھی تردید کی، جبکہ وہی اسپیکر پہلے ہی دو حکومتی تجاویز کو منظور کر چکے ہیں۔ محبوبہ نے ایکس پر لکھا، “جب سپیکر نے اپنی صوابدید کا استعمال کرتے ہوئے پہلی دو قراردادوں کی منظوری دی تو شہداء کو اعزاز دینے والی قرارداد کیوں روک دی گئی؟ لوگوں کو خود فیصلہ کرنا چاہیے۔
After refusing to exercise his discretionary powers to allow PDP’s important resolution seeking a holiday on 13 July Martyr’s Day the Hon’ble Speaker now denies ever rejecting it.
Let the people judge for themselves – why did the same Speaker using the same discretionary powers…
— Mehbooba Mufti (@MehboobaMufti) July 12, 2025
پچھلے سال کئی رہنماؤں کو قبرستان جانے سے روکنے کے لیے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ دریں اثنا، جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے کہا کہ حزب اختلاف کی پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی کا یہ الزام کہ 13 جولائی کو تعطیل کا اعلان کرنے والی پارٹی کی قرارداد کو ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، بے بنیاد ہے۔ بتادیں کہ آج حالا ت کو دیکھتے ہوئے کئی پارٹیوں کے دفاتر میں انتظامیہ نے تالے لگا دیئے ہیں اور لیڈران کو گھروں سے باہر نکلنے سے منع کررکھا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

