نئی دہلی: سماجی کارکن سونم وانگچک نے پیر کو گڑگاؤں کے ایک اسپتال سے نکلنے کے بعد اپنی اہلیہ گیتانجلی انگمو کے ہمراہ راج گھاٹ پہنچ کر مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وانگچک نے حالیہ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی قیادت میں چلنے والی طلبہ تحریک کا ذکر کیا اور جمہوری حقوق کا استعمال کرنے والے افراد کے تحفظ کی وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ راج گھاٹ مہاتما گاندھی کو یاد کرنے اور یہ پیغام دینے آئے ہیں کہ موجودہ دور میں بھی ان کے دکھائے ہوئے طریقے پوری طرح بامعنی ہیں۔
VISITED RAJGHAT…
before going home.
Thank you Bapu, for the path you showed…
We just learnt that it remains as relevant today as 100 years ago.No copyright, may share freely pic.twitter.com/YQRMlFZlyX
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 27, 2026
’’کامیابی طاقت یا لاٹھی سے نہیں ملی‘‘
وانگچک نے نوجوانوں، عام لوگوں اور ملک کے تمام شہریوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ پُرامن طریقے سے تحریک چلانے والے نوجوان منتظمین اور ہر عمر کے لوگوں نے اس جدوجہد کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس تحریک کے نتیجے میں کوئی حل یا کامیابی حاصل ہوئی ہے تو وہ ہتھیاروں، لاٹھیوں یا پتھروں کی طاقت سے نہیں بلکہ امن کی اپیل اور خود برداشت کی گئی تکالیف کے ذریعے حاصل ہوئی ہے۔

’’گاندھی کا راستہ آج بھی اتنا ہی مؤثر ہے‘‘
اپنی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد بھی وانگچک نے کہا تھا کہ مہاتما گاندھی کا پُرامن راستہ ایک صدی بعد بھی اتنا ہی متاثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ، چھ برسوں سے لداخ میں گاندھیائی طریقۂ کار پر عمل کیا جا رہا ہے اور وہ اسے انتہائی مؤثر سمجھتے ہیں۔ تاہم، انہیں یہ یقین نہیں تھا کہ یہ طریقہ قومی سطح پر بھی کامیاب ہوگا۔ حالیہ تحریک کے بعد انہیں یقین ہو گیا ہے کہ یہ راستہ آج بھی قومی سطح پر مؤثر ہے اور آئندہ ایک سو یا ایک ہزار برس تک بھی متعلقہ رہ سکتا ہے۔
#WATCH | Delhi | Activist Sonam Wangchuk says, “I wish to congratulate the youth, the common people, and all the citizens of this country. I also congratulate the elders, people of all ages, and the young organisers who carried this movement forward so peacefully. We must… pic.twitter.com/JtSJkJabgK
— ANI (@ANI) July 27, 2026
’’دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ صرف آغاز ہے‘‘
امتحانی نظام میں اصلاحات کے مطالبے پر ہونے والی ملک گیر تحریک کے بعد سابق مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے پر وانگچک نے کہا کہ یہ صرف ایک آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس مسئلے کو تسلیم کرکے اب اس کا حل تلاش کیا جاتا ہے تو ملک ایک بہتر سمت میں آگے بڑھے گا۔ ان کے مطابق حکومت کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور امید ہے کہ مثبت مذاکرات کے ذریعے ملک کے لیے بہترین راستہ اختیار کیا جائے گا۔
امتحانی اصلاحات کے بل پر بحث کا خیرمقدم
پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے پبلک ایگزامینیشنز ترمیمی بل پر سونم وانگچک نے کہا کہ یہ ایک اچھی پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پر بحث ہونی چاہیے اور مکمل غوروفکر کے بعد مناسب اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ وانگچک نے واضح کیا کہ پُرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم، اگر کوئی شرپسند عناصر بدنیتی کے ساتھ کام کر رہے ہوں تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پُرامن احتجاج ہندوستانی شہریوں کا آئینی حق ہے اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ وانگچک نے ہندوستان اور دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے مسائل اور مطالبات مہاتما گاندھی کے دکھائے ہوئے پُرامن راستے سے اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ حل ضرور نکلے گا، اگرچہ اس میں وقت لگ سکتا ہے۔ کامیابی پہلی کوشش میں نہ بھی ملے، لیکن عام طور پر بالآخر کامیابی حاصل ہو جاتی ہے۔
26 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد راج گھاٹ پہنچے
سونم وانگچک نے یاد کیا کہ جب وہ سوئٹزرلینڈ سے واپس آئے تھے اور بھوک ہڑتال شروع کرنے سے قبل راج گھاٹ پر خراج عقیدت پیش کیا تھا، اس کے بعد جنتر منتر گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی وہ اسی طرح راج گھاٹ آئے ہیں اور اس کے بعد لداخ کے لیے روانہ ہوں گے۔ انہوں نے تحریک میں شامل ہونے والے ملک بھر کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہر عمر اور ہر علاقے کے لوگوں نے اس مہم اور تحریک میں اپنی آواز شامل کی، جس کے نتیجے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ NEET-UG 2026 کے مبینہ پرچہ لیک معاملے پر 37 روز تک جاری رہنے والی تحریک کے دوران ملک گیر احتجاج کے بعد دھرمیندر پردھان نے ہفتے کی دوپہر مرکزی وزرا کی کونسل سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے حکومت کی جانب سے اپنے مطالبات پر یقین دہانی ملنے کے بعد جنتر منتر سے احتجاج ختم کردیا۔ یہ تحریک ایک طنزیہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے طور پر شروع ہوئی تھی، لیکن بعد میں طلبہ اور نوجوانوں کی بڑی تعداد اس سے جڑ گئی۔ لداخ کے سماجی کارکن سونم وانگچک کی تحریک میں شمولیت کے بعد احتجاج کو مزید تقویت ملی اور وہ اس تحریک کا نمایاں چہرہ بن گئے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

