Bharat Express DD Free Dish

Hakim Abdul Hameed: حکیم عبد الحمیدؒ: ایک عہد ساز شخصیت اورجامعہ ہمدرد یونیورسٹی کی داستانِ عظمت

آج جب ہم جامعہ ہمدرد کے وسیع و عریض کیمپس کو دیکھتے ہیں تو یہ دراصل حکیم عبد الحمید کے خواب اور محنت کا نتیجہ ہے

تحریر: خالد مصطفی

ہندوستان کی سرزمین ہمیشہ ایسے نابغہ روزگار سپوتوں سے فیضیاب رہی ہے جنہوں نے اپنے علم، کردار اور خدمات کے ذریعے قوم و ملت کو نئی راہیں دکھائیں۔ انہی روشن ستاروں میں ایک نام ہے حکیم عبد الحمیدؒ (14 ستمبر 1908 22 جولائی 1999) کا، جنہیں طبِ یونانی کا مجدد اور تعلیم کا عظیم محسن کہا جا سکتا ہے۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب معالج اور معلم تھے بلکہ ایک عہد ساز مفکر بھی جنہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایسے تعلیمی ادارے قائم کیے جو آج بھی قوم کی ترقی اور ملک کے وقار کو بڑھا رہے ہیں۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
حکیم عبد الحمید 14 ستمبر 1908 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے انہیں طبِ یونانی اور خدمتِ خلق کا شوق تھا۔ انہوں نے طب کی تعلیم حاصل کی اور کم عمری ہی میں علاج و معالجہ کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف ذاتی شہرت یا دولت نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور قوم کو تعلیمی و صحتی اعتبار سے مضبوط کرنا تھا۔
ہمدرد کی بنیاد
حکیم عبد الحمید نے 1906 میں اپنے بزرگوں کے قائم کردہ ادارے ہم درد دواخانہ کو ایک نئی سمت دی اور اسے ایک بڑی تحریک میں بدل دیا۔ “ہم درد” کے نام سے تیار کی جانے والی دوائیں نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں شفا کی علامت بنیں۔ وہ اس دواخانے کے بانی اور چیف ٹرسٹی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ان کی قیادت میں ہم درد محض ایک دواخانہ نہیں رہا بلکہ ایک فلاحی اور تحقیقی ادارہ بن گیا۔ اس آمدنی کو انہوں نے ذاتی مفاد کے بجائے تعلیم و تحقیق اور عوامی فلاح پر خرچ کیا۔
جامعہ ہمدرد کا قیام
حکیم عبد الحمید کی سب سے بڑی علمی و ملی خدمت جامعہ ہمدرد کا قیام ہے۔ دہلی کے علاقے ہمایوں پور میں 1960 کی دہائی سے انہوں نے ایک بڑے تعلیمی منصوبے کی بنیاد رکھی جو رفتہ رفتہ ایک عظیم یونیورسٹی کی شکل اختیار کر گیا۔پھر جامعہ ہمدرد کو باقاعدہ Deemed University کا درجہ ملا۔ آج یہ ادارہ نہ صرف دہلی بلکہ پورے ہندوستان اور دنیا بھر کے طلبہ کے لیے علم و تحقیق کا مرکز ہے۔
خدماتِ صحت: مجیدیا اسپتال
جامعہ ہمدرد کے تحت قائم مشیہورمجیدیا اسپتال آج بھی لاکھوں مریضوں کے علاج و معالجے میں مصروف ہے۔ یہ اسپتال دہلی کے غریب اور متوسط طبقے کے لیے مسیحا کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کے ڈاکٹراورمعالج اپنی مہارت اور خدمت کی بدولت لوگوں کے دلوں میں گھر کیے ہوئے ہیں۔
انعامات و اعزازات
حکیم عبد الحمید کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے انہیں بڑے اعزازات سے نوازا:
:1965 پدم شری
:1992 پدم بھوشن
یہ اعزازات ان کی عظیم خدمات کے مقابلے میں کم محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی حقیقی پہچان ان کے قائم کردہ ادارے ہیں جو آج بھی قوم و ملک کی خدمت میں سرگرم ہیں۔
جامعہ ہمدرد کا موجودہ مقام (2025)
جامعہ ہمدرد کے موجودہ وائس چانسلر: پروفیسر محمد افشار عالم
جامعہ ہمدرد، جو ملک کا ایک معروف تعلیمی و تحقیقی ادارہ ہے، اس وقت پروفیسر محمد افشار عالم کی قیادت میں مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ پروفیسر افشار عالم نے اپنی ایم سی اے (ماسٹرز) کی ڈگری علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے مکمل کی اور پی ایچ ڈی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے حاصل کی۔ان کے تحقیقی موضوعات میں سافٹ ویئر ری انجینئرنگ، ڈیٹا مائننگ، بایو انفارمیٹکس، فزی ڈیٹابیسز اور پائیدار ترقی شامل ہیں۔ ان کی قیادت میں جامعہ ہمدرد نے نہ صرف تعلیمی معیار کو بلند کیا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنی تحقیقی ساکھ کو بھی مزید مضبوط کیا ہے۔آج 2025 میں جامعہ ہمدرد کو صرف ایک یونیورسٹی نہیں بلکہ ایک علمی و تحقیقی تحریک کہا جا سکتا ہے۔
کرنل طاہر مصطفی رجسٹرار جامعہ ہمدرد یونیورسٹی
ابھی حال ہی میں کرنل طاہر مصطفی نے28 جولائی 2025 کو رجسٹرار کاعہدہ سنبھالا ہے۔ان کے آنے سے جامعہ ہمدرد یونیورسٹی کو مزیز ترقی کے ساتھ جامعہ ہمدرد اونچی بلندیوں پر پہنچے گا. جامعہ ہمدرد کے نئے رجسٹرار کے طور پر ہندوستانی فوج کے سرونگ آفیسرکرنل طاہرمصطفیٰ کی تقرری (28 جولائی، 2025)کو عمل میں آئی۔ ان کی یہ تقرری ڈیپوٹیشن کی بنیاد پرکی گئی ہے اوریونیورسٹی انتظامیہ نے انہیں یہ اہم عہدہ دیتے ہوئے یقین ظاہرکیا ہے کہ وہ ادارے کے انتظامی امور میں اپنی صلاحیت اورتجربے سے نئی توانائی فراہم کریں گے۔ کرنل طاہرمصطفیٰ ایک تجربہ کارمنتظم اورہندوستانی مسلح افواج کے ایک باصلاحیت افسرکے طورپربڑے پیمانے پر جانے جاتے ہیں۔ وہ اپنی ایمانداری، قیادت اورانتظامی صلاحیتوں کے لیے مشہور ہیں اورانہوں نے حکومت ہند میں کئی اہم عہدوں پرفائز رہ کر خدمات انجام دی ہیں۔ نئی دہلی میں ڈائریکٹر (ایڈمنسٹریشن اینڈ ٹریننگ) اوربہار جیو اسپیشل سینٹر، پٹنہ کے ڈائریکٹرتھے۔ ان کی شاندارخدمات کے اعتراف میں، کرنل طاہرمصطفیٰ کو2007 میں ہندوستان کے سابق چیف آف آرمی اسٹاف، جنرل وی کے سنگھ کی جانب سے سکم میں ٹاسک فورس کمانڈرکے طورپران کے مثالی کام پرتوصیفی سند سے نوازا گیا۔ تعلیمی لحاظ سے، انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ میں بی ٹیک، مدراس یونیورسٹی سے جغرافیہ میں ایم ایس سی کی ڈگریاں حاصل کی ہیں، اورانہوں نے اسٹریٹجک اہمیت کے مختلف بنیادی اورایڈوانس کورسزمکمل کیے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طلب و علم نے کرنل طاہر مصطفی کے رجسٹرار ہونے پر خوشی کا اظہار کیا تھا. علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا طالب علم یہاں سے پڑھائی کرنے کے بعد کسی بھی فیلڈ میں جاتا ہے دنیا بھر میں نام کرتا ہے اسی میں کرنل طاہر مصطفی نے بھی
اپنا نام درج کرا دیا ہے. علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ترانہ ہے جو ابر یہاں سے اٹھے گا وہ سارے جہاں پر برسے گا. آج سر سید احمد خان کا خواب مکمّل ہوتا نظر آرہا ہے. علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا طالب علم ہونا ایک بہت بڑے فخر کی بات ہے جس نے یہاں سے پڑھائی کی اور اس کو ایک بڑے عہدے پر دیکھ کر علیگ برادری کا دل فخر سے اونچا ہو جاتا ہے.
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے درخشاں سپوت
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک عظیم تحریک ہے، جس نے ملک و ملت کو ایسے رہنما، اسکالر، سائنسداں، فوجی افسر، سیاستدان اور ماہرین عطا کیے جنہوں نے ہندوستان اور دنیا بھر میں اپنا لوہا منوایا۔ 2025 تک علیگ برادری کے ہزاروں افراد اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ذیل میں چند نمایاں نام پیش ہیں جو علی گڑھ کی علمی و سماجی عظمت کے روشن ستارے ہیں:
-1 حامد انصاری
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ بھی رہے اور یہاں کے وائس چانسلر بھی بنے.علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فخر اور ہندوستان کے سابق نائب صدر جمہوریہ بھی رہے۔انہوں نے سفارتکاری اور آئینی اداروں میں نمایاں کردار ادا کیا۔
-2 پروفیسر محمد افشار عالم
جامعہ ہمدرد یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر محمد افشار عالم کی قیادت میں مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ پروفیسر افشار عالم نے اپنی ایم سی اے (ماسٹرز) کی ڈگری علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے مکمل کی اور پی ایچ ڈی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے حاصل کی۔
-3 کرنل طاہر مصطفی
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی ٹیک کے فارغ۔فوج میں کرنل کے عہدے تک پہنچ کر ملک کی خدمت کی اور علیگ برادری کے لیے باعثِ فخر بنے جو ابھی جامعہ حمدد یونیورسٹی کے رجسٹرار کے عہدے پر فیض ہیں۔
4 – – ذاکر حسین
علیگ برادری کا وہ نام جس نے تعلیم کے میدان کو نئی جہت دی۔
وہ ہندوستان کے صدر جمہوریہ بھی رہے اور علیگ روایت کے سفیر بنے۔
-5 سرفراز علی صدیقی
بین الاقوامی سطح پر معروف سائنسداں۔علی گڑھ سے تعلیم کے بعد امریکہ میں ریسرچ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
-6 ڈاکٹر انور جمال قدوائی
معروف ماہرِ تعلیم اور ریڈیو براڈکاسٹنگ کے شعبے کے رہنما۔آل انڈیا ریڈیو اور نصاب سازی میں اہم کردار ادا کیا۔
-7 پروفیسر عرفان حبیب
عالمی شہرت یافتہ مؤرخ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق پروفیسر۔تاریخِ ہند پر ان کی کتابیں دنیا بھر میں نصاب کا حصہ ہیں۔
-8 کلیم عاجز
اردو کے ممتاز شاعر اور علیگ ادبی روایت کے ترجمان۔ان کی شاعری نے اردو ادب میں ایک نئی تازگی پیدا کی۔
-9 سلیم علی (Birdman of India)
ہندوستان کے مشہور ماہر پرندیات۔
علی گڑھ سے تعلیم حاصل کی اور دنیا بھر میں ہندوستانی جنگلی حیات کو متعارف کرایا۔
-10 مولانا محمد علی جوہر
تحریکِ آزادی کے عظیم رہنما، خطیب اور صحافی۔علی گڑھ تحریک کے روشن علمبردار۔
نتیجہ
یہ تمام نام اس بات کی دلیل ہیں کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے صرف تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک کارخانہ انسان سازی کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ علیگ اولڈ اسٹوڈنٹس نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دنیا بھر میں علم و خدمت کے چراغ روشن کر رہے ہیں۔
جامعہ ہمدرد یونیورسٹی
فارمیسی ڈپارٹمنٹ ہندوستان بھر میں نمبر 1 رینکنگ پر ہے۔
میڈیسن، فارماسیوٹیکل سائنسز، انجینئرنگ، لاء، نرسنگ، مینیجمنٹ، ماس کمیونیکیشن اور دیگر شعبہ جات میں اعلیٰ سطح کی تعلیم دی جا رہی ہے۔
یہاں کے فارغ التحصیل طلبہ نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یونیورسٹی کا تحقیقی معیار عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے، اور یہ ادارہ یونانی طب اور جدید سائنس کے امتزاج کی بہترین مثال ہے۔

شخصیت کا تاثر
حکیم عبد الحمید کی شخصیت خدمت، اخلاص اور قوم دوستی کا عملی نمونہ تھی۔ وہ کبھی ذاتی نمود و نمائش کے خواہاں نہیں رہے۔ ان کی زندگی کا نصب العین یہی تھا کہ قوم کو تعلیم اور صحت کے میدان میں مضبوط بنایا جائے۔ وہ ایک سچے گاندھیائی فکر کے حامل اور اندرا گاندھی کے دور میں ان کے ذاتی طبیب بھی رہے۔
اختتامی تجزیہ
آج جب ہم جامعہ ہمدرد کے وسیع و عریض کیمپس کو دیکھتے ہیں تو یہ دراصل حکیم عبد الحمید کے خواب اورمحنت کا نتیجہ ہے۔ وہ دنیا سے رخصت ہو گئے مگران کے قائم کردہ ادارے آج بھی زندہ ہیں اور لاکھوں انسانوں کو علم، صحت اور خدمت کی روشنی عطا کر رہے ہیں۔ حکیم عبد الحمید کی حیات ہمارے لیے یہ سبق رکھتی ہے کہ اگر اخلاص اور عزم کے ساتھ قوم کی خدمت کی جائے تو ایک فرد بھی پوری تاریخ کا دھارا بدل سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read