غازی آباد: سابق کانگریس لیڈر آچاریہ پرمود کرشنم نے کانگریس پارٹی کے اندرونی اختلافات کے لیے براہِ راست راہل گاندھی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ سچن پائلٹ کے ساتھ ایک منظم سازش کی گئی اور انہیں راجستھان کی قیادت سے دور رکھنے کے لیے سیاسی کھیل کھیلا گیا۔ آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ راجستھان میں پیدا ہونے والے تنازع کی اصل جڑ اشوک گہلوت نہیں بلکہ دہلی میں موجود کانگریس قیادت ہے، اور اس پوری کشمکش کی بنیاد راہل گاندھی ہیں۔ آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ کانگریس میں ایک ہی طرز عمل بار بار دہرایا گیا ہے۔ ان کے مطابق امریندر سنگھ کی سیاسی بے عزتی نوجوت سنگھ سدھو کے ذریعے کرائی گئی، جبکہ بعد میں نوجوت سنگھ سدھو کو چرنجیت سنگھ چنی کے ذریعے کمزور کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس قیادت خود تنازعات پیدا کرتی ہے اور پھر خود کو ان سے الگ ظاہر کرتی ہے۔
سچن پائلٹ کو وزیراعلیٰ نہ بنانے کے لیے گہلوت کو مہرہ بنایا گیا
پرمود کرشنم نے دعویٰ کیا کہ سچن پائلٹ کو وزیراعلیٰ بننے سے روکنے کے لیے اشوک گہلوت کو بطور مہرہ استعمال کیا گیا۔ ان کے بقول گہلوت اقتدار سے غیر معمولی وابستگی رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے قیادت کی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔ انہوں نے مہابھارت کے کردار دھرت راشٹر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے دھرت راشٹر بیٹے کی محبت میں اندھے ہوگئے تھے، ویسے ہی اقتدار کی خواہش نے اشوک گہلوت کو بھی حقیقت سے دور کر دیا ہے۔
’’راہل گاندھی ابھرتے ہوئے رہنماؤں کو برداشت نہیں کرتے‘‘
آچاریہ پرمود کرشنم نے سوال اٹھایا کہ اگر سدارمیا یا امریندر سنگھ جیسے رہنماؤں کو بدلا جاسکتا ہے تو پھر اشوک گہلوت کو کیوں نہیں ہٹایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ اگر گہلوت نے کانگریس ہائی کمان کی ہدایات کی خلاف ورزی کی تھی تو ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سچن پائلٹ ایک بڑی سیاسی سازش کا شکار ہوئے ہیں اور انہیں مستقبل میں بھی راجستھان کی کمان ملنے کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق کانگریس قیادت ایسے رہنماؤں کو آگے نہیں بڑھنے دیتی جن میں مستقبل کی قیادت کی صلاحیت موجود ہو۔ پرمود کرشنم نے دعویٰ کیا کہ جب تک راہل گاندھی اور ان کی قریبی ٹیم پارٹی کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی رہے گی، کانگریس کی حالت بہتر نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان، پنجاب اور اتر پردیش سمیت کئی ریاستوں میں پارٹی کا اثر مسلسل کم ہو رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ اندرونی قیادت کا بحران ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


