Bharat Express DD Free Dish

Gang rape: قضائے حاجت کے لیے نکلی سترہ سالہ قبائلی لڑکی کو 10 درندوں نے بنایا اپنی ہوس کا شکار، مقامی پنچایت پر معاملہ دبانے کی کوشش کا الزام

لڑکی کے اہل خانہ نے الزام لگایا کہ ہے ہفتہ کے روز اس معاملے کو دبانے کے لیے مقامی پنچایت کی میٹنگ بھی ہوئی تھی۔

جھارکھنڈ کے گوڈا ضلع میں اجتماعی عصمت دری کا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے اتوار کے روز بتایا کہ جھارکھنڈ کے گوڈا ضلع میں ایک 17 سالہ قبائلی لڑکی کے ساتھ 10 مردوں نے مبینہ طور پر اجتماعی عصمت دری کی۔ مجرموں نے لڑکی کو جنسی درندگی کا شکار اس وقت بنایا جب وہ قضائے حاجت کے لیے باہر نکلی تھی۔ اس درد ناک سانحے نے ایک بار پھر عصمت دری کے معاملات کی روک تھام میں حکومت کی ناکامی کو ظاہر کیا ہے۔

دو دن بعد درج ہوئی ہے پولیس میں رپورٹ

پولیس نے بتایا کہ یہ واقع جمعہ کے روز پیش آیا تھا۔ جائے وقوعہ سندر پہاڑی پولیس اسٹیشن کے دائرۂ کار میں آتا ہے اور اس سلسلے میں اب تک آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ پولیس نے مزید بتایا کہ لڑکی ایک رشتہ دار کی شادی میں شرکت کے لیے آئی ہوئی تھی۔ جب صبح کے وقت وہ قضائے حاجت کے لیے باہر نکلی تو ایک شخص نے اسے پکڑ لیا اور اس کے منہ پر کپڑا باندھ کر اسے ایک ویران جگہ پر لے گیا۔ پولیس نے بتایا کہ وہاں مبینہ طور پر 10 مردوں نے اس کی عصمت دری کی۔

مقامی پنچایت میں کی گئی معاملے کو دبانے کی کوشش

دریں اثنا لڑکی کے اہل خانہ نے الزام لگایا کہ ہے اس سلسلے میں ہفتہ کے روز ایک مقامی پنچایت کی میٹنگ ہوئی، جس میں اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم انھوں نے اتوار کے روز پولیس میں شکایت درج کرا دی۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ مکیش کمار نے کہا کہ ’’متاثرہ کے خاندان نے اتوار کو 10 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی۔ آٹھ لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور باقی دو ملزمان کی تلاش جاری ہے۔‘‘ انھوں نے مزید بتایا کہ متاثرہ کو طبی معائنے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read