Bharat Express DD Free Dish

ہندوستان کی طرف سے، سوڈان میں ہمارے اہم اقتصادی مفادات ہیں، خاص طور پر ایندھن۔ سوڈان ہندوستان کو خام تیل کا ایک بڑا سپلائر بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ وہاں عدم استحکام ہندوستان کی توانائی کی سلامتی کو متاثر کر سکتا ہے۔

اگردنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک کا تمغہ ہمیں کچھ دہائی پہلے ملا ہوتا تو ہوسکتا ہے یہ ملک کے لئے ایک بڑی تشویش کا موضوع ہوتا۔

تین سال پہلے راجستھان میں بی جے پی کے آپریشن لوٹس کو ناکام کرنے سے پہلے بھی دوسری ریاستوں میں کانگریس کی حکومتیں بچانے میں گہلوت کانگریس میں چانکیہ کا کردار نبھاتے ہوئے نظرآئے ہیں۔

فن لینڈ کو ناٹو کی رکنیت دینے سے بوکھلایا روس اپنی فوجی طاقت کو مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں فن لینڈ کے بعد اگر یوکرین کو بھی ناٹوکی رکنیت دی گئی تو یہ روس کے لئے کھلا چیلنج ہوگا، جس کا انجام بڑی تباہی ہوسکتی ہے۔

پنجاب پھر 80 والے اسی دہائی میں نہ پہنچ جائے، اس کے لئے ضروری ہے کہ امرت پال کے سرینڈر کرنے یا اس کی گرفتاری کے بعد شفاف جانچ اور فرد جرم کو یقینی بنا کر جلد از جلد اس کی اس کہانی کا ایپیلاگ لکھا جائے۔

چین کی چال بازی کا ایک غور کرنے والا پہلو یہ بھی ہے کہ ’سو-سو چوہے کھاکر بلی حج کو چلی‘ کی طرز پر وہ اب اپنی شبیہ سدھارنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

ملک کے ذہن میں یہ تبدیلی راتوں رات نہیں آئی۔ اس کی بنیاد میں اعتماد کا جذبہ ہے جو پچھلے سات آٹھ سالوں میں ایک بلند عمارت میں تبدیل ہو چکا ہے۔

ایسے میں 2023 کو ہندوستان کا سال بتانے والی امریکہ کی پیشین گوئی سچ ثابت ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ روس-یوکرین جنگ کو ختم کروانے کی ہماری کوشش اس سفر کو مزید آسان کر سکتے ہیں۔

بی جے پی کی جیت کو واضح طور پر وزیراعظم نریندر مودی کی ایکٹ ایسٹ پالیسی پرمہر کہا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم مودی نے جس طرح شمال مشرق کی ترقی پر توجہ دی۔ عوام نے بھی کھلے دن سے اس کا ریوارڈ دیا ہے۔

ہندوستان نے جنگ پر شروع سے ہی ایک غیر جانبدارانہ رخ اختیار کیا ہے اور روس کی کارروائی کی عوامی طور پر مذمت کرنے سے بھی پرہیز کیا ہے۔