اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے لیے قابل قبول کسی بھی اقدام کی حمایت کے لیے تیار ہیں جو تناؤ کو کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی میں مدد دے سکے۔ یہ بیان 29 اپریل 2025 کو اس وقت سامنے آیا جب جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی دیکھی جارہی ہے۔ گوتیرس نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ دونوں فریقین کو تحمل سے کام لینا چاہیے اور پرامن ذرائع سے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کا یہ موقف عالمی برادری کی جانب سے بڑھتی ہوئی اس کشیدگی کو روکنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد سے بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں اور سفارتی تلخی بڑھ گئی ہے۔ بھارت نے پاکستان پر اس حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے، جبکہ پاکستان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی اور بین الاقوامی سطح پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ 27 ، 28 اور29 اپریل کی رات کو لائن آف کنٹرول پر دونوں فریقین کے درمیان چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جو 2021 کی جنگ بندی معاہدے کے بعد سب سے بڑا تصادم مانا جا رہا ہے۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں پاکستان نے بھارتی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی، جبکہ بھارت نے انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کرنے کا اعلان کیا، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔
وہیں دوسری جانب عالمی طاقتوں نے بھی اس صورتحال پر ردعمل کا اظہار کرتےہوئے دونوں ممالک سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل کی ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے 28 اپریل کو بھارت اور پاکستان کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور پاکستانی عوام کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ اسی طرح چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے میں کہا کہ وہ اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور دونوں فریقین سے گزارش کی ہےکہ وہ ایک دوسرے کے قریب آئیں اور تناؤ کو کم کریں۔ برطانیہ اور دیگر ممالک نے بھی اس تنازع کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ ایران نے ثالثی کی پیشکش کی ہے تاکہ خطے میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
دریں اثنا، بھارت اور پاکستان دونوں اپنے موقف پر سختی سے قائم ہیں، جس سے فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ بھارتی فوج نے سرحد پر اپنی تیاریوں کو مضبوط کرلیا ہے، جبکہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ شہری ہوابازی اور تجارت پر پابندیوں کے اثرات بھی ابھرنے لگے ہیں۔ عالمی برادری اب اس امید پر نظریں جمائے ہوئے ہے کہ اقوام متحدہ کی مداخلت اور دیگر سفارتی کوششیں دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روک سکیں گی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


