Bharat Express DD Free Dish

Trump arrives in Saudi Arabia: سعودی عرب پہنچے امریکی صدر ٹرمپ،ولی عہد محمد بن سلمان نے کیا پرتپاک استقبال،تاریخی ہوسکتا ہے ٹرمپ کا دورہ

یہ دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک اب عالمی سطح پر ایک اہم جغرافیائی و سیاسی مقام کے حامل ہیں۔ نہ صرف وہ علاقائی استحکام کے لیے ایک مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، بلکہ اپنی مضبوط معیشت اور اصلاحاتی رجحانات کی بنا پر بھی توجہ کا مرکز ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج  سعودی عرب  کے سرکاری دورے پر پہنچ گئے ہیں۔دوسری مرتبہ کرسی صدارت سنبھالنے کے بعد یہ ٹرمپ کا پہلا بیرونی دورہ ہے۔ امریکی صدر اس دورے کو “تاریخی” قرار دے چکے ہیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے کو تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی حالات اور چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ریاض اور واشنگٹن کے درمیان سکیورٹی، توانائی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تزویراتی شراکت داری قائم ہے۔صدر ڈونلڈ امارات اور قطر کا دورہ بھی کریں گے اور ممکنہ طور پر ترکیہ میں یوکرین جنگ پر بات چیت ہوگی۔سعودی کابینہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رواں ہفتے متوقع دورہ سعودی عرب کا خیر مقدم کیا ہے۔

دوسری بار منتخب ہونے والے امریکی صدر کے پہلے دورے کے موقع پر حماس کے خلاف اسرائیلی جنگ کا موضوع حاوی رہے گا تاہم ان کے درمیان پیشرفت کچھ یوں سامنے آئی کہ جب امریکی صدر طیارے میں سوار ہوئے اس وقت اسرائیلی نژاد امریکی یرغمالی عدن الیگزینڈر کو ریڈکراس کے حوالے کر دیا گیا۔روانگی سے تھوڑی دیر قبل وائٹ ہاؤس میں گفتگو کے دوران انہوں نے یرغمالی کی رہائی کو ’بہت بڑی خبر‘ قرار دیا اور کہا کہ ’وہ اپنے والدین سے ملنے گھر آ رہے ہیں جن کا خیال تھا کہ وہ مر چکا ہے، یہ واقعی ایک بڑی خبر ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران غزہ کے معاملے پر پیشرفت ہو گی اور ان کے دورے میں ’تین بنیادی ممالک‘ شامل ہیں۔مبصرین کے مطابق یہ دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک اب عالمی سطح پر ایک اہم جغرافیائی و سیاسی مقام کے حامل ہیں۔ نہ صرف وہ علاقائی استحکام کے لیے ایک مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، بلکہ اپنی مضبوط معیشت اور اصلاحاتی رجحانات کی بنا پر بھی توجہ کا مرکز ہیں۔اس دورے کے دوران غزہ کے علاوہ یمن اور ملک شام کے مسائل پر بھی بات چیت اور ایران کے جوہری مذاکرات پر بھی گفت وشنید کا امکان ہے۔

بھارت ایکسپریس۔ 



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read