اتوار، 22 جون 2025 کو شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافاتی علاقے دویلعہ میں واقع مار ایلیاس چرچ میں ایک خودکش بمبار نے آج مصروف عبادت کے دوران دھماکیہ کردیا ،جس کے نتیجے میں خبر لکھے جانے تک 19افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 15 سے زائد زخمی بتائے جارہے ہیں، جیسا کہ شامی سرکاری میڈیا اور وزارت صحت نے رپورٹ کیا۔ برطانیہ میں مقیم شامی آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے تصدیق کی کہ یہ حملہ ایک عیسائی عبادت گاہ کو نشانہ بناکر کیا گیا، جہاں دھماکے کے وقت بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ حکام نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں کئی افراد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ اس حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی گروپ نے قبول نہیں کی، لیکن شام میں جاری تنازعات کے تناظر میں اسے سیکیورٹی کی سنگین صورتحال سے جوڑا جا رہا ہے۔
#Syria BREAKING: a suicide attack just took place at the St. Elias church in Dwel’a, on the eastern outskirts of #Damascus.
This is the first suspected Islamic State terror attack in Syria since the fall of #Assad. pic.twitter.com/ykmWcx7MD6
— Thomas van Linge (@ThomasVLinge) June 22, 2025
تحقیقات کے مطابق، خودکش بمبار نے چرچ کے مرکزی ہال میں داخل ہونے کے بعد دھماکہ کیا، جس سے عبادت گاہ کے اندرونی حصے کو شدید نقصان پہنچا اور عبادت کرنے والوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ شامی فوج اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ ممکنہ اضافی خطرات کا پتہ لگایا جا سکے۔ مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ دھماکے کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی، اور چرچ کے ارد گرد تباہی کے مناظر دیکھے گئے۔ شام کی عیسائی برادری، جو پہلے ہی طویل جنگ کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے، نے اس حملے پر گہرے صدمے اور غم کا اظہار کیا ہے۔
شامی حکومت نے اس واقعے کی سخت مذمت کی اور اسے “دہشت گردی کا بزدلانہ عمل” قرار دیا، جبکہ بین الاقوامی برادری سے اس کی مذمت کرنے کی اپیل کی۔ اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے اس حملے کو شہریوں اور مذہبی مقامات کے خلاف تشدد کی ایک اور مثال قرار دیا اور تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کی۔ دمشق میں عیسائی رہنماؤں نے امن اور رواداری کی اپیل کی ہے، جبکہ مقامی لوگوں نے سوشل میڈیا پر اس واقعے کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ شام میں عیسائی آبادی، جو جنگ سے پہلے لاکھوں میں تھی، اب نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے، اور اس طرح کے حملوں سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں اضافی فوجی تعینات کر دیے ہیں تاکہ مزید حملوں کے خطرے کو روکا جا سکے۔ دمشق کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے، اور زخمیوں کے علاج کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ شامی آبزرویٹری نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے حملے شام میں جاری سیاسی اور عسکری عدم استحکام کی وجہ سے بڑھ سکتے ہیں۔ فی الحال، حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ حملہ آور کون تھا اور اس کا تعلق کسی دہشت گرد گروپ سے تھا یا نہیں، جبکہ عیسائی برادری اس سانحے سے نمٹنے کے لیے دعائیہ تقریبات کا اہتمام کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

