ٹی آرایف کو دہشت گرد تنظیم قرار دیئے جانے پر پاکستان کو بوکھلایا ہوا ہے۔
پاکستان کوہندوستان کی سخت کارروائی کے بعد عقل آنے لگی ہے۔ پاکستانی وزیرخارجہ اورنائب وزیراعظم اسحاق ڈارنے ہندوستان کے ساتھ متنازعہ مسائل کے حل کے لئے ایک بارپھر”جامع مذاکرات” کی وکالت کی ہے۔ اسحاق ڈارکا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب ہندوستان پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ پاکستان سے کوئی بات چیت صرف دہشت گردی اورپاکستان مقبوضہ کشمیر(پی اوکے) سے متعلقہ موضوعات پرہی ہوگی۔ پاکستانی سینیٹ میں جمعرات کواسحاق ڈارنے کہا، “ہندوستان کے ساتھ جنگ بندی 18 مئی تک بڑھا دی گئی ہے، لیکن آخرکار پریشانیوں کا حل سیاسی مذاکرات سے ہی نکلے گا۔”
واضح رہے کہ ہندوستان نے 22 اپریل کو کشمیرکے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد جوابی کارروائی کے تحت 7-6 مئی کی رات ‘آپریشن سندور’ شروع کیا تھا۔ اس دوران ہندوستان نے پاکستان اورپی اوکے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پرمنصوبہ بند حملے کئے تھے۔ اس کے بعد پاکستان نے 9-8 اور10 مئی کوہندوستانی فوجی اداروں پرحملے کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 10 مئی کوفوجی کارروائی روکنے پررضا مندی بنی۔
ہندوستان-پاکستان کے درمیان 18 مئی کو ہوگی اگلی بات چیت
محمد اسحاق ڈارنے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ہندوسان کے ساتھ جامع مذاکرات کے لئے تیارہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان اورپاکستان کی فوجی مہم ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز(ڈی جی ایم او) کے درمیان اگلی میٹنگ 18 مئی کو ہوگی۔ ہندوستان اورپاکستان کے درمیان 2003 میں جامع مذاکرات کی شروعات ہوئی تھی، جب پاکستان کے صدرجنرل پرویزمشرف تھے۔ حالانکہ 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد یہ عمل پوری طرح پٹری سے اترگیا اوراب تک دوبارہ رسمی طورپربحال نہیں ہوسکا۔
انڈس واٹر ٹریٹی اور وارننگ
محمد اسحاق ڈارنے ہندوستان کے ذریعہ سندھ آبی معاہدہ یا انڈس واٹرٹریٹی کو معطل کرنے کے امکانات پربھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر ہندوستان نے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی تو اسے جنگ کی کارروائی مانا جائے گا۔“ اس سے پہلے جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ہندوستان کوبات چیت کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان امن اوراستحکام کے لئے مذاکرات کوتیارہے۔ ہندوستان کے ذریعہ ‘آپریشن سندور’ کے بعد دونوں ممالک کے رشتوں میں آئی کشیدگی کے درمیان پاکستان کی طرف سے یہ مذاکرات کی تجویز سفارتی محاذ پرنرمی کے اشارے کے طورپردیکھا جا رہا ہے۔ حالانکہ ہندوستان کا رخ اب بھی سخت بنا ہوا ہے اوروہ دہشت گردی پرٹھوس کارروائی کے مطالبہ پرقائم ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
