Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

سید جلال الدین نے کہا کہ حماس سے جنگ تھی تو ہوتی اور جو جنگی قوانین ہیں ان پر عمل کیا جاتا لیکن گریٹر اسرائیل بنانے کا خواب لیے اسرائیل غزہ میں نسل کشی پر آمادہ ہے۔

اسرائیل اپنے دشمنوں کی جانکاری جمع کرنے اوراس کی بنیاد پر ہدف کو چننے اوراسے برباد کرنے میں آرٹیفیشیل انٹلی جنس کا جم کراستعمال کر رہا ہے۔ اسرائیلی سیکورٹی سے منسلک لوگوں کے مطابق، اسرائیل نے گاسپیل نام سے ایک اے آئی سسٹم تیارکیا ہے۔

غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف لائی گئی قرارداد کی حمایت میں 28 ممالک نے ووٹ دیا جب کہ 13 ممالک نے اس میں حصہ نہیں لیا۔ اس تجویز کے خلاف ووٹ دینے والے ممالک کی تعداد 6 تھی۔

اسرائیل کی جانب سے غزہ پرمسلسل حملے کئے جا رہے ہیں۔ اس حملے میں عام شہری اور امدادی کاموں میں مصروف لوگ بھی مارے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے امریکہ اور برطانیہ اسرائیل سے ناراض ہیں۔ جو بائیڈن نے اسرائیل کو دھمکی دی ہے۔

اسرائیلی حکومت نے ایران کے الزامات پر کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا ہے لیکن اسرائیل ڈیفنس فورسزنے اعلان کیا ہے کہ وہ جنگی یونٹوں میں کام کرنے والے تمام فوجیوں کی چھٹیاں منسوخ کر رہی ہے۔ اس سے ایک روز قبل فضائی دفاعی یونٹس کو مضبوط بنانے کے لیے ریزرو میں رکھے گئے دستوں کو بھی بلایا گیا تھا۔

آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد مخلوط حکومت بنانے والی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق صدر، سینیٹ کے چیئرمین اور پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے گورنر کے عہدے پیپلز پارٹی کو دیے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ نے بھی سرحد کھولنے کا خیر مقدم کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اسرائیل نے گل بارڈر کھول دیا ہے، اسے ایریز کراسنگ کہا جاتا ہے۔ اس کراسنگ کے ذریعے حماس نے اسرائیل پر حملہ کر کے 1200 سے زائد افراد کو ہلاک کیا اور تقریباً 250 افراد کو یرغمال بھی بنا لیا۔

پاکستان کی دو انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سینئر حکام نے کہا ہے کہ 2020 سے اب تک ان کے ملک میں ہونے والی 20 کے قریب قتل سے متعلق معاملات میں ہندوستان کا ہاتھ ہے۔

جے شنکر نے کہا، "اقوام متحدہ کو ہمیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمارے انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہونے چاہئیں۔ ہندوستان کے لوگ میرے ساتھ ہیں۔ ہندوستانی عوام اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں۔

گزشتہ ماہ پی ٹی آئی نے 71 سالہ خان کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے پریڈ گراؤنڈ میں ایک بڑے جلسے کا اعلان کیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکام کو پارٹی کو وفاقی دارالحکومت میں ریلی کرنے کی اجازت دینے کی بھی ہدایت کی تھی۔