Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وائرل ہیپاٹائٹس کا انفیکشن عالمی سطح پر بڑھ رہا ہے اور ہر روز تقریباً 3500 افراد ہلاک ہو رہے ہیں، جو کہ سالانہ تقریباً 1.3 ملین اموات بنتی ہے۔

مرکز کے زیرانتظام لداخ سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ وہاں کل عید کی نماز ادا کی جائے گی۔ لداخ کی مسئول ھلال کمیٹی اثنا عشریہ کرگل نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہاں مختلف مقامات سے ہلال عید نظرآنے کی خبر موصول ہوئی ہے، ایسی صورت میں کل یعنی بدھ کے روز عید الفطر منانے کا اعلان کیا جاتا ہے۔

رفح میں اس وقت تقریباً 15 لاکھ کے بے گھرفلسطینی غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں سے یہاں جمع ہیں اوررفح کا یہ چھوٹا سا شہرانتہائی گنجان آباد پناہ گاہ کے طورپرفلسطینیوں کے لئے موجود ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز چریف نے کہا تھا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ برابری، انصاف اور باہمی احترام کے اصولوں پر مبنی پرامن تعلقات کا خواہاں ہے۔ اس تناظر میں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ اور پرامن حل ناگزیر ہے۔

مکہ میں واقع مسلمانوں کی مقدس مسجد حرام سے ایک بڑی خبر آئی ہے۔ خلیج ٹائمس کے مطابق، ایک شخص نے مسجد حرام کی اوپری منزل سے چھلانگ لگا دی ہے۔

کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی نے حال ہی میں بلوچستان کے علاقے مچھ، گوادر بندرگاہ اور تربت میں نیول بیس پر تین بڑے دہشت گرد حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس حملے میں سیکورٹی فورسز نے تقریباً 17 دہشت گردوں کو مار گرایا تھا۔

امریکہ میں ہند نژاد طلباء کی موت کا یہ پہلا یا دوسرا واقعہ نہیں ہے۔ ایسے کیسز مسلسل منظر عام پر آ رہے ہیں۔ 6 اپریل کو بھی اوما ستیہ سائی گڈے نامی ہندوستانی طالب علم کی موت کا معاملہ سامنے آیا تھا۔

خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کے معاملے میں ہندوستان کی پوزیشن پاکستان سے کافی بہتر ہے۔ اگر ہم سعودی عرب کی بات کریں تو وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ دہائی کے دوران ہندوستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

اس وقت سال کا پہلا سورج گرہن مینس میں جاری ہے۔ یہ سورج گرہن ہندوستان میں نہیں دیکھا جا سکے گا۔ یہ امریکہ، کناڈا، کولمبیا، وینزوئیلا، آئرلینڈ، پرتگال، ناروے، پاناما، روس، بہاماس وغیرہ جیسے ممالک میں دیکھا جا رہا ہے۔

سعودی عرب میں آج چاند نظر نہ آنے کی صورت میں ہندوستان پاکستان سمیت تمام ایشیائی ممالک میں یہ قریب قریب طے ہوچکا ہے کہ یہاں 11 اپریل کو عید کی نماز ادا کی جائے گی ۔ یعنی ایشیائی ممالک کے مسلمان بھی اس بار پورے 30 روزے رکھیں گے۔