Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

امریکی مرکزی کمان نے کہا تھا کہ بحیرۂ عرب میں امریکی بحریہ اور فضائیہ کے وسائل ایران کے خلاف اعلان کردہ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد اور ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والی بحری آمدورفت کو محدود کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔

قومی ادارہ برائے آفاتِ قدرتی کے ترجمان حافظ محمد یوسف حماد کے مطابق ان قدرتی آفات نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس سے عوام کی روزی روٹی اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں اور سخت بیانات کے باعث کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے خطے کی صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

شاہی خاندان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ’’بادشاہ معظم نے معزز رکنِ پارلیمنٹ اینڈریو برنہم کو ملاقات کے لیے طلب کیا اور ان سے نئی حکومت تشکیل دینے کی درخواست کی۔‘‘ شاہی خاندان کے مطابق برنہم نے ملاقات کے دوران بادشاہ کی دعوت قبول کر لی اور انہیں باضابطہ طور پر وزیراعظم اور فرسٹ لارڈ آف دی ٹریژری مقرر کر دیا گیا۔

اسرائیلی اہلکار کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کے نام سے جاری ہونے والے یہ پیغامات دراصل اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر احمد وحیدی اور تنظیم کے دیگر سینئر عہدیداروں کی جانب سے جاری کیے جا رہے تھے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے عراق کے عوام کے نام تحریری پیغام میں کہا ہے کہ خطے میں امریکہ کی بلا روک ٹوک بالادست موجودگی کا تسلسل ایک ’بے وقوفانہ خیال‘ ہے۔ انہوں نے اپنے والد علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا عزم بھی دہرایا۔

ماسکو کے قریب یوکرین کے بڑے ڈرون حملے کے بعد روس نے بیلسٹک میزائلوں سے جوابی کارروائی تیز کر دی ہے۔ لاجسٹک مراکز اور تیل کے ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔

اردن کی فوج نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے 10 میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے اور ملک میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔طاسی دوران ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اطلاع دی کہ جنوبی بندرگاہی شہروں بندر عباس اور بندر لنگہ میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور حملوں کے دوران ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والے امن معاہدے کی امریکہ کی جانب سے خلاف ورزی ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ بے معنی ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمزکے کنٹرول پر تنازعہ بتدریج بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکہ نے ایرانی فوجی اڈوں، نگرانی کے مراکز، زیرزمین ہتھیاروں کے ڈپو اور سمندری انفراسٹرکچر پر بڑے حملے کئے ہیں۔