Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

تجزیہ کاروں کے مطابق نجف اور کربلا میں جسد کو لے جانے کا فیصلہ محض مذہبی روایت نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی اور علامتی پیغام بھی رکھتا ہے۔ یہ اقدام آیت اللہ خامنہ ای کو عالمی شیعہ برادری کی مذہبی روایت، شہادت اور آئمہ اہل بیتؑ کی میراث سے جوڑنے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی پاورفل فضائیہ (ایئرفورس) نے اب تک کی سب سے بڑی ناکہ بندی لگائی اور دو ماہ تک ایک بھی جہاز ناکہ بندی کو پارنہیں کرسکا۔ پھر ہم شاید ایک معاہدے کے قریب پہنچے، اس لئے ہم نے ناکہ بندی میں نرمی دی۔ مجھے نہیں معلوم، لیکن شاید ہم ایک معاہدے (ڈیل) پر پہنچ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے باوجود تیل کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ نہیں ہوا۔

جیل کے اندر دو منظم گروہوں کے درمیان تصادم ہوا تھا، جس کے دوران جیل حکام نے امن و امان بحال کرنے کی کوشش کی۔وزیرِ انصاف نے کہا، "اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی جان جانا انتہائی افسوسناک ہے۔ میں جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتا ہوں۔ ہمیں موقع پر جا کر تحقیقات کرنی ہوں گی، یہ جاننا ہوگا کہ واقعہ کیسے پیش آیا اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مستقبل میں اس طرح کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے تفتیش کے لیے نمرہ نامی خاتون کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ کلیدی ملزم اور اس کے ساتھی جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس ملزمان کی تلاش میں کارروائی کر رہی ہے۔

ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی میت اس وقت تہران میں عوامی دیدار کے لیے رکھی گئی ہے، جہاں ہزاروں سوگوار اور مختلف ممالک کے اعلیٰ وفود انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے پہنچ رہے ہیں۔ خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ ان کی تدفین 9 جولائی کو مشہد میں کی جائے گی۔

امریکی صدر نے پھر سے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ہی حملے میں ایران کی پوری قیادت کو ختم کر سکتے تھے، لیکن پھر مذاکرات کے لیے کوئی باقی نہ رہتا۔ آخری رسومات میں اعلیٰ قیادت اور عوام کے غم کا مذاق اڑاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں حیرت ہوئی کیونکہ ان کے خیال میں ایرانی عوام خامنہ ای کو پسند نہیں کرتے تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 28 فروری کو ایرانی سرزمین پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی نگرانی اور کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔ اس کے تحت اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ یا ان سے منسلک بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ’’اصل باس کون ہے‘‘۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد دونوں لیڈروں کی ممکنہ وائٹ ہاؤس ملاقات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔

میروشینک نے کئی اہم واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسٹاروبیلسک میں ایک کالج پر حملہ، برائنسک کے علاقے میں بیلاروسی بچوں کو لے جانے والی بس کو نشانہ بنانا اور یناکیئیوو میں ایک مسافر بس پر حملہ ایسے واقعات ہیں جن میں عام شہری متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے شہری آبادی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے موقع پر تہران میں جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔