Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

حالانکہ افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ہمارے پاس موجود معلومات کے مطابق ہمارے نائب وزیرخارجہ دبئی اپنے ذاتی اور خاندانی دورے پر گئے  ہیں اور امارت اور انتظامیہ کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی ٹکراو نہیں ہے۔

امریکہ کے صدرڈونالڈ ٹرمپ نے 4 فروری کو بنجامن نیتن یاہوکے ساتھ ایک پریس کانفرنس کی تھی۔ اس میں انہوں نے غزہ پٹی کی تعمیر نو کے لئے ایسا پلان پیش کیا تھا، جو غزہ کے ساتھ مسلم ممالک بھی تسلیم نہیں کریں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نائیجیریا میں اسکولوں میں آگ لگنے کے واقعات عام  بات نہیں ہیں، لیکن ماضی میں ہوئے واقعات کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا جو ’سیف اسکولز انیشیٹو‘ کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان سفارشات کو اسکولوں اور طلباء کے تحفظ کے لیے2014 میں تیار کیا گیا تھا۔

منگل کے روز، ٹرمپ نے غزہ کی ترقی کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینیوں کی نقل مکانی مستقل ہو گی۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ان پر نسلی کشی کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا گیا۔ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عرب رہنماؤں نے اس کی مذمت کی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ امریکہ سے ڈی پورٹ کیے جانے والے ہندوستانیوں کو ہتھکڑیاں اور بیڑیوں میں لایا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر اپوزیشن پارٹیاں مسلسل مرکزی حکومت کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

فیس بک لائیو کے ذریعے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہاکہ میں بنگلہ دیش کے لوگوں سے انصاف چاہتی ہوں۔ کیا میں نے اپنے ملک کے لیے کچھ نہیں کیا؟ پھر اتنی توہین کیوں؟ میری بہن اور میں جو واحد یاد سے جڑے ہوئے ہیں وہ مٹ جانے کی ہے۔

سعودی عرب نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مؤقف کو ایک مرتبہ پھر دہراتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت کا طویل مدت سے یہی نظریہ ہے کہ فلسطینیوں کی ایک خودمختار ریاست ہونی چاہیے اور یہ ایک پختہ مؤقف ہے جس پر مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔

منگل (4 فروری) کو ایک حیران کن بیان میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ جنگ زدہ غزہ کی پٹی پر قبضہ کر کے اسے معاشی طور پر دوبارہ ترقی دے گا۔

ریپبلکن سینیٹرز کا کہنا ہے کہ اس قوانین سے امیگریشن قوانین کی نگرانی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ سینیٹر جان کینیڈی نے اسے "خطرناک" قرار دیا اور کہا کہ یہ ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کو کمزور کرتا ہے۔

واضح رہے کہ پہلا مرحلہ چھ ہفتے جاری رہے گا جس میں غزہ سے 33 یرغمالیوں کی رہائی اور اس کے مقابل تقریبا 1900 فلسطینی گرفتار شدگان شامل ہیں۔اسی طرح مذکورہ مرحلے میں غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کا داخل کیا جانا شامل ہے۔