Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

یاد رہے کہ عرب لیگ کے ساتھ ساتھ مصر اور اردن دونوں کی حکومتوں نے ہفتے کے آخر میں  اپنے بیانات میں اس خیال کو یکسر مسترد کر دیاتھا۔ پانچ عرب ممالک اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے بھی ہفتے کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کیاتھا۔

چین کی جانب سے امریکی مصنوعات پر عائد کردہ ٹیرف کا اطلاق پیر (10 فروری) سے ہوگا۔ پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق چین نے امریکی ٹیرف کے جواب میں نئے ٹیرف کا اعلان کیا ہے۔

یا درہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ تاریخ میں پہلی بار، ہم غیر قانونی تارکین وطن کا سراغ لگا رہے ہیں، انہیں فوجی طیاروں میں لوڈ کر رہے ہیں، اور انہیں واپس بھیج رہے ہیں جہاں سے وہ آئے تھے۔

سیو دی چلڈرن کے ایک اور جائزے کے مطابق افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ افراد کو آنے والے مہینوں میں غربت اور غذائی عدم تحفظ سے بچنے کے لیے نقد رقم اور خوراک کی فراہمی جیسی انسانی امداد کی اشد ضرورت ہوگی۔

امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف التوا میں ڈالنے کا اعلان کینیڈا اور میکسیکو کی جانب سے سرحدوں کی نگرانی سخت کرنے پر کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ اور جسٹن ٹروڈو کے درمیان ایک ہی روز میں دو بار ٹیلے فونک رابطہ ہوا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ نجیم کو چار مختلف مواقع پر مسلمانوں کے عقائد کے خلاف توہین کے اظہار کے تحت نفرت انگیز جرائم کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔دوسری جانب وکیل کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق استعمال کریں گے۔

استرخان کے گورنر ایگور بابوشکن نے کہا کہ یوکرین نے رات کے وقت ایک ڈرون حملہ کیا، جس کا مقصد علاقے میں واقع سہولیات کو نشانہ بنانا تھا۔ حالانکہ، روسی فضائی دفاعی نظام اور الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجی نے حملے کو پسپا کرنے میں موثر کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

شام کے عبوری وزیر خارجہ اسد حسن الشیبانی نے 28 جنوری کو دمشق کے خلاف پابندیاں ایک سال کے لیے معطل کرنے کے یورپی یونین (EU) کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا قدم ہے جس سے شامی عوام کا معیار زندگی بہتر ہو سکتا ہے اور اقتصادی اصلاحات میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اسرائیلی فوج نے 21 جنوری کو جنین میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیا، جسے اس نے ’انسداد دہشت گردی آپریشن‘ کا نام دیا ہے۔ فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق اس کارروائی میں اب تک کم از کم 25 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکی صدر کے فیصلے سے تجارتی جنگ چھڑنے کا خطرہ ہے، جس کے بارے میں ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ عالمی ترقی کو سست کر سکتا ہے اور افراط زر دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔