Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

امریکی میڈیا کے مطابق محکمہ خارجہ نے کانگریس کے جائزے کے بغیر اسرائیل کو اسلحہ فروخت کا اعلان کیا۔میڈیا رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل کو فروخت کیے جانے والے اسلحہ میں ہزاروں ہیل فائر میزائل اور بم شامل ہیں۔

حماس اسرائیل کے ساتھ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں شرکت کے لیے اب بھی تیار ہے۔ ہم اب بھی مذاکرات میں جانے کے لیے تیار ہیں لیکن اسرائیل ان مذاکرات کو شروع کرنے میں تاخیر کر رہا ہے۔

معاہدے کے تحت حماس تمام خواتین (فوجی اور عام شہری) بچوں، اور 50 سال سے زیادہ عمر کے 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی، حماس 6 ہفتوں کے دوران یرغمالیوں کو رہا کرے گی، اس دوران ہر ہفتے 3 یرغمالیوں کو رہا کیا جائیں گے۔

صدر جوزف خلیل عون اور وزیراعظم نواف سلام کی حکومت نے حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے گذشتہ تین ادوار کے دوران قائم کیے گئے اصول توڑ دیے ہیں۔ماضی میں حکومت پارٹی کے براہ راست نمائندوں پر مشتمل ہوتی تھی۔

ٹروڈو نے یہ بیان بزنس اور لیبر لیڈروں کے ساتھ بند کمرے میں ایک میٹنگ میں دی ہے۔ اس میٹنگ میں اس بات پر بحث کی گئی کہ کینیڈا پر ٹیکس لگانے کی دھمکی کا بہتر طرح سے کیسے جواب دیا جائے۔

امریکی صدر نے اقوام متحدہ کے تحت چلنے والے اداروں سے دستبرداری کے بعد عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگا دی ہے۔امریکی صدر کے فیصلے سے امریکی شہریوں اور اس کے اتحادیوں کے خلاف آئی سی سی کی تحقیقات میں شامل عملے اور ان کے اہلخانہ پر مالیاتی اور ویزا پابندیاں عائد ہوں گی۔

شیخ حسینہ کے ویڈیو پیغام کے جاری ہونے کے بعد بنگلہ دیش نے ہندوستان سے کہا کہ وہ معزول سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو ملک میں رہتے ہوئے جھوٹے اور من گھڑت تبصرے کرنے سے روکے۔ بھارت نے شیخ مجیب کے گھر کو نذر آتش کرنے کی شدید مذمت کی۔

خارجہ سکریٹری وکرم مصری نے کہا، "وزیر خارجہ نے پابندیوں کے استعمال سے متعلق معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کی تفصیل دی، جس کے بارے میں ہمیں امریکی حکام بشمول امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ نے آگاہ کیا ہے۔

ٹرمپ کی پہلی میعاد کے دوران، وزیر اعظم  مودی نے 2017 اور 2019 میں امریکہ کا دورہ کیا۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے حال ہی میں ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعظم کے خصوصی  نمائندہ کے طور پر شرکت کی تھی۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ جنگ سے تباہ حال غزہ پٹی پر قبضہ کرے گا اور فلسطینیوں کو کسی دوسری جگہوں پر بسائے جانے کے بعد اسے معاشی طور پر ترقی دے گا۔ غزہ کو ترقی دینے کی تجویز دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا تھا کہ فلسطینیوں کی نقل مکانی مستقل ہو گی۔ حالانکہ بعد میں وائٹ ہاؤس نے اس پر صفائی دی تھی کہ غزہ سے کوئی بھی نقل مکانی عارضی ہو گی۔