Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادنوم گھیبرییسس نے ہفتے کے روز ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں وہ برازیل کے صدر لولا ڈا سلوا کے ساتھ جوہانسبرگ میں خوشگوار موڈ میں نظر آ رہے ہیں۔

امریکہ اور وینیزویلا کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے انتباہی لہجے میں ایک پیغام جاری کیا ہے۔

ایئر بس کے اے320 ایئرکرافٹ کے سافٹ ویئر اپڈیٹ نے دنیا بھر میں ہوائی جہاز کے آپریشنز میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایئر بس نے تقریباً 6 ہزار سے زائد اے320 طیاروں میں سافٹ ویئر اپڈیٹ کی ہدایت دی، جس کے بعد فضائی ایجنسیوں میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔ اس اپڈیٹ اور ہارڈویئر ریپلیسمنٹ کا اثر بھارت میں چلنے والی ایئر لائنز جیسے ایئر انڈیا اور انڈیگو پر بھی پڑنے والا ہے۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی بگڑتی ہوئی صحت کے حوالے سے ملک بھر میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ ان کی جلد صحت یابی کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں دعاؤں اور عبادات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران بی این پی اسٹینڈنگ کمیٹی نے ایک بڑا اور سنگین دعویٰ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عوامی لیگ حکومت کے دورِ اقتدار میں جیل میں قید کے دوران خالدہ ضیا کو ’سلو پوائزننگ‘ دیا گیا تھا۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے ہفتہ کی دوپہر اپنی دیرینہ ساتھی جوڈی ہیڈن کے ساتھ شادی کرلی۔ اس کی تصدیق خود البانیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کی، جس کے بعد دنیا بھر سے مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق محمد یونس نے جمعہ کی شب اپنے قانونی مشیر آصف نذرل اور خصوصی معاون منیر حیدر کو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن خالدہ ضیا کی طبی صورتحال جاننے کے لیے ایور کیئر اسپتال بھیجا تھا۔

امریکی صدر کی اپنے ایکس پوسٹ میں لگائے گئے الزامات، جنوبی افریقہ میں طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کا موضوع رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ کی حکومت بارہا نسل پرستانہ تشدد کے دعووں کی تردید کرتی رہی ہے اور کہتی ہے کہ اس کا زرعی اصلاحات کا ڈھانچہ آئینی رہنما اصولوں کے مطابق ہے۔

سونالی کدم کے آئی وی ایل پی تجربے نے انہیں امریکہ کی ا سٹیم شعبہ جات  کی برتری سے روشناس کرایا ،جس سے متاثر ہوکر وہ ہندوستان میں تعلیم ، اختراع اور افرادی قوت کی ترقی کی خاطر امریکی نمونوں کی پیروی کے لیے کوشاں ہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن 4-5 دسمبر کو وزیر اعظم مودی کی دعوت پر بھارت آئیں گے۔ اس دورے میں تیل کی خریداری، دفاعی تعاون اور تجارت جیسے اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو اور اسٹریٹجک معاہدوں کی امید ہے۔

امریکہ کی جانب سے بھارت پر حالیہ برسوں میں روس سے سستے تیل کی خریداری کے خلاف سخت موقف اختیار کیا گیا تھا۔ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارت پر 50 فیصد ٹیریف عائد کرتے ہوئے واضح بیان دیا تھا کہ روس کے ساتھ تعلقات امریکہ کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔