Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی خارجہ اور داخلی پالیسیوں پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے، اسی دوران چین کے سرکاری میڈیا نے ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ویڈیو کے ذریعے ٹرمپ حکومت کا مذاق اڑایا ہے۔

انٹرنیٹ نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ایران میں قومی سطح پر انٹرنیٹ بندش کو 108 گھنٹے گزر چکے ہیں، جس کے باعث ایرانی عوام دنیا اور ایک دوسرے سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم HRANA کے مطابق، جاری احتجاج اپنے 16ویں دن میں داخل ہو چکا ہے اور ملک بھر میں 187 شہروں میں 606 مقامات پر مظاہرے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جس سے ایران میں عدم استحکام کی صورتحال مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔

حادثے کے نتیجے میں ملی موہن نامی طالب علم جاں بحق ہوگیا، جبکہ آشیكا شیجامنی سنتوش اور جسینابی زخمی ہوئے ہیں۔ سفارت خانے نے بتایا کہ دونوں زخمی طلبہ کو اوسکیمن کے سٹی ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جارہی ہے۔

ایران میں جاری شدید اور پرتشدد مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں پہلی مرتبہ ایرانی حکام نے کھل کر اعتراف کیا ہے کہ ملک بھر میں اب تک تقریباً 2000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان ہلاکتوں میں سیکیورٹی اہلکار اور مظاہرین دونوں شامل ہیں۔

بھارت نے شکسگام وادی پر چین کے دعوے پر سخت پیغام دیا ہے۔ لداخ کے ایل جی کووِنڈر گپتا نے واضح کیا کہ یہ 1962 کا بھارت نہیں ہے۔

ایپل اور گوگل نے ہاتھ ملا لیا ہے۔ ایپل نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ گوگل کی AI ٹیکنالوجی ان کے ’ایپل فاؤنڈیشن ماڈلز‘ کے لیے سب سے بہترین ہے۔ اب آئی فون صارفین کو گوگل کی جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا تجربہ ملے گا، وہ بھی ایپل کی سخت پرائیویسی حفاظت کے ساتھ۔

جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے بھارت کا اپنا دو روزہ سرکاری دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا اور منگل کو وطن واپس روانہ ہو گئے۔ ان کی رخصتی کے موقع پر احمد آباد ایئرپورٹ پر گجرات کے گورنر آچاریہ دیوورت، وزیر اعلیٰ بھوپیندر بھائی پٹیل اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں، جنہوں نے انہیں الوداع کہا۔

واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے ذریعے 25 فیصد اضافی ٹیرِف عائد کرنے کے امریکی فیصلے پر تنقید کی۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ ’’کسی بھی غیر قانونی یکطرفہ پابندیوں اور کسی کے دائرۂ اختیار میں زبردستی مداخلت‘‘ کی مخالفت کرتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر کی اولین ترجیح تشدد کو روکنا ہے، ساتھ ہی ایران کے حکام کی جانب سے موصول ہونے والے نجی پیغامات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر نہیں چاہتے کہ تہران کی سڑکوں پر لوگوں کی جانیں جائیں، لیکن بدقسمتی سے فی الحال ایسا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

کیا جنگ کے دہانے پر کھڑا ایران امریکا کے سامنے جھک گیا ہے، یا یہ کوئی نئی سفارتی چال ہے؟ تہران نے اچانک ’بات چیت‘ کی تجویز بھیجی، لیکن ٹرمپ کی وارننگ نے دنیا کی دھڑکنیں تیز کر دیں؛ پڑھیں پوری خبر