Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور ڈنمارک کی سلطنت کے تحت ایک خودمختار علاقہ ہے، جہاں دفاع اور خارجہ پالیسی کا اختیار کوپن ہیگن کے پاس ہے۔ امریکہ کا اس جزیرے پر ایک فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔ سال 2025 میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پُرامن مظاہروں کو شرپسند عناصر نے تشدد میں بدل دیا۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے جمعہ کے روز رپورٹ کیا کہ سکیورٹی فورسز نے بدامنی کے سلسلے میں تقریباً 3,000 افراد کو حراست میں لیا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ٹرمپ کے بیانات کا سخت جواب دیا ہے۔ انہوں نے مظاہرین کو “غدار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی “کمر توڑ دی جائے گی”۔ خامنہ ای نے ان ہلاکتوں اور نقصان کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا اور کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا،

امریکہ نے ایک ’بین الاقوامی استحکامی فورس‘ تعینات کرنے اور عبوری مرحلے کے دوران غزہ میں نظم و نسق، سلامتی اور تعمیر نو کی کوششوں کے تال میل کے لیے ایک اعلیٰ نمائندہ مقرر کرنے کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔

فالگن کا کہنا ہے کہ انہوں نے مہابھارت پڑھی ہے اور انہیں لگتا ہے کہ جس طرح کرن کو کنّتی سے ملنے کا حق تھا، اسی طرح انہیں بھی اپنی ماں سے ایک بار ملنے کا حق ہے۔ وہ صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انہیں گود لینے والے والدین نے بے حد محبت سےان کی پرورش کی ہے۔

بھارت میں امریکہ کے نئے سفیر سرجیو گور نے اس ہفتے کے آغاز میں باضابطہ طور پر اپنی سفارتی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ ذمہ داریاں سنبھالتے ہی انہوں نے ممبئی کا دورہ کیا، جہاں ان کی ملاقات ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر سنجے ملہوترا سے ہوئی۔ اس ملاقات کو بھارت اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور مالی تعاون کے تناظر میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس وقت جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے جب ایران سے واپس آنے والے بھارتی شہریوں کے استقبال کے لیے ان کے اہلِ خانہ بڑی بے چینی اور امید کے ساتھ موجود تھے۔ گزشتہ چند دنوں سے ایران میں انٹرنیٹ بند ہونے کی اطلاعات نے اہلِ خانہ کی تشویش میں اضافہ کر دیا تھا، تاہم اپنے عزیزوں کی بحفاظت واپسی نے سب کو سکون کا احساس دلایا اور چہروں پر مسکراہٹ لوٹا دی۔

ادھر اسرائیل نے بھی اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ اسرائیلی خفیہ ادارے کے سربراہ ڈیوڈ برنیا ایران سے متعلق بات چیت کے لیے واشنگٹن پہنچے، جہاں انہوں نے امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس سے قبل کہا تھا کہ اگر ایران میں مزید خونریزی ہوئی تو اس کے ’’سنگین نتائج‘‘ ہوں گے۔

سابق صدر یون کے خلاف مجموعی طور پر آٹھ مقدمات زیرِ سماعت ہیں، جن میں مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش، ان کی اہلیہ پر مبینہ بدعنوانی کے الزامات، اور 2023 میں ایک میرین کی موت سے متعلق مقدمہ شامل ہے۔ یہ تیسرا موقع تھا جب کسی سابق صدر کے مقدمے کی کارروائی براہِ راست نشر کی گئی۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور وینزویلا کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکی کارروائی کے دوران سابق وینزویلا کے صدر نکولس مادرو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریز کو حراست میں لیا گیا تھا، جن پر منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت امریکا میں مقدمہ چل رہا ہے۔