Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ایران کو پچھلے 10 سالوں میں سب سے کمزور قرار دیتے ہوئے، روبیو نے کہا کہ مستقبل کے بڑے خطرات کو روکنے کے لیے اس کی فوجی صلاحیتوں کو کم کرنا ضروری ہے۔

2 مارچ سے لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر تناؤ مسلسل برقرار ہے۔ اس دن حزب اللہ نے 27 نومبر 2024 کے جنگ بندی کے بعد پہلی بار اسرائیل پر راکٹ داغے تھے، جس کے جواب میں اسرائیل نے جنوبی اور مشرقی لبنان میں ہوائی حملے تیز کر دیے۔

اسپین کی وزیر دفاع نے کہا، "ہم ایران کے خلاف کسی بھی فوجی مہم کے لیے اپنے ایئر اسپیس اور فوجی اڈوں کا استعمال نہیں ہونے دیں گے۔" اس موقف کو اسپین کے وزیر معیشت کارلوس کیورو نے بھی حمایت دی اور کہا کہ اسپین ایسے جنگی اقدام کی حمایت نہیں کرے گا جو غیر ضروری اور بغیر وجہ کے شروع کیا جائے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ ایران کوگھٹنے ٹیکنے مجبورکرنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں، لیکن ایران پوری مضبوطی کے ساتھ مقابلہ کررہا ہے۔ ٹرمپ ایک طرف معاہدے کی بات کر رہے ہیں تو دوسری طرف ایران پردباؤ ڈالنے کی بھی پوری کوشش کررہے ہیں اوراس دوران انہوں نے دھمکیاں بھی دی ہیں۔

ایران تنازعے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی کانگریس کے بعد اب انتھنی البانیزی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے خلاف کارروائی کے مقصد پر وضاحت طلب کی ہے۔

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے باعث آبنائے ہرمز اس وقت بند ہے، جس کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ کا تیل دنیا کے دیگر ممالک تک نہیں پہنچ پا رہا۔ صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ کئی ممالک میں تیل کے ذخائر کم ہونے کے اثرات محسوس کیے جانے لگے ہیں۔

ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ ان کی سب سے بڑی ترجیح ایران کے تیل پر قبضہ کرنا ہے۔ انہوں نے داخلی مخالفت کو مسترد کرتے ہوئے ناقدین کو ’’بیوقوف لوگ‘‘ قرار دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں ممکنہ اقتدار کی تبدیلی ’’رجیم چینج‘‘ کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک ’’نیا گروپ‘‘ سامنے آ رہا ہے، جو بقول ان کے ’’بہت معقول رویہ‘‘ اختیار کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس کئی متبادل موجود ہیں اور خطے میں بڑی تعداد میں جنگی بحری جہاز تعینات ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق خطے میں کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ ہزاروں مزید امریکی فوجی مشرقِ وسطیٰ پہنچ رہے ہیں، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ جنگ کا ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اس احتجاج کو ‘لیفٹ فنڈنگ نیٹ ورک’ کا حصہ قرار دیا، جب کہ ریپبلکن لیڈروں نے اسے ‘ہیٹ امریکہ’ ریلی کہا۔ اس دوران امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں لنکن میموریل سے نیشنل مال تک مارچ ہوا اور مظاہرین نے ‘نو کنگز’ کے نعرے لگائے