ٹوکیو: جاپان کے جنوبی ساحلی علاقے میں ایک خوفناک آگ لگنے کی خبر سامنے آئی ہے جس نے مقامی شہریوں میں ہنگامی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اس واقعے کا ویڈیو بھی منظر عام پر آیا ہے، جس میں آگ کی بلند شعلے واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس حادثے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے اور متعدد افراد زخمی یا لاپتہ ہیں۔ چینی نیوز ایجنسی شِنہوا نے مقامی میڈیا کے حوالے سے بدھ کو بتایا کہ جاپان کے جنوب مغربی شہر اوئیتا کے ساغانوسیکی علاقے میں بے قابو آگ بھڑک اٹھی۔ اس کے نتیجے میں تقریباً 170 سے زیادہ عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر جل گئیں اور 70 سے زائد افراد لاپتہ ہو گئے۔
شِنہوا نے کیوڈو نیوز کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق منگل کی شام تقریباً 5:45 بجے فائر بریگیڈ کو ساغانوسیکی علاقے میں آگ لگنے کی ایمرجنسی کال موصول ہوئی۔ شدید ہوا کے اثرات کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی اور شمال مشرق میں واقع گھنے رہائشی علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آگ قریبی جنگلات تک پہنچ گئی۔ فائر فائٹرز نے بدھ کی صبح بھی آگ بجھانے کا کام جاری رکھا، جس کی وجہ سے 115 گھروں کے 175 افراد کو قریبی کمیونٹی ہال میں پناہ لینی پڑی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، اوئیتا شہر کے ساغانوسیکی ضلع میں یہ واقعہ پیش آیا۔ آگ کی تیز شعلے دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے میں پھیل گئیں اور تقریباً سات فٹ بال کے میدانوں کے برابر رقبہ جل گیا، جو تقریباً 48,900 مربع میٹر پر محیط ہے۔ یہ منظر گزشتہ 50 سالوں میں پہلی بار دیکھا گیا ہے۔ اس عرصے میں اس نوعیت کی آگ لگنے کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک شخص ہلاک ہوا ہے جبکہ ایک خاتون کے جزوی طور پر جلنے کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔ خاتون کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ اور فائر بریگیڈ اہلکار مسلسل آگ پر قابو پانے اور متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔ حکام نے عوام سے علاقے سے دور رہنے اور حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
