Bharat Express DD Free Dish

Zohran Mamdani Becomes First Muslim Indian Origin Mayor Of New York : زہران ممدانی نیویارک کے پہلے ہندوستانی نژاد مسلم میئر منتخب، ریکارڈ ووٹوں سے جیت کر رقم کی تاریخ

امریکی سیاست میں ایک تاریخی موڑ اُس وقت آیا جب 34 سالہ ڈیموکریٹک امیدوار زہران ممدانی نیویارک سٹی کے میئر منتخب ہوئے۔ وہ نہ صرف شہر کے پہلے مسلم بلکہ تاریخ کے سب سے کم عمر میئر بن گئے ہیں۔

زہران ممدانی

نیویارک/واشنگٹن: امریکی سیاست میں ایک تاریخی موڑ اُس وقت آیا جب 34 سالہ ڈیموکریٹک امیدوار زہران ممدانی نیویارک سٹی کے میئر منتخب ہوئے۔ وہ نہ صرف شہر کے پہلے مسلم بلکہ تاریخ کے سب سے کم عمر میئر بن گئے ہیں۔ ممدانی نے سابق گورنر اینڈریو کومو اور ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا کو ایک سنسنی خیز اور انتہائی متنازعہ مقابلے میں شکست دی۔ یہ انتخاب کئی لحاظ سے غیر معمولی ثابت ہوا۔ نیویارک شہر میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ دو ملین سے تجاوز کر گیا، جو 1969 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ زہران ممدانی، جو محض ایک سال قبل ایک احتجاجی امیدوار کے طور پر سامنے آئے تھے، عوامی حمایت کی غیر معمولی لہر کے باعث اقتدار کی بلندی تک پہنچ گئے۔ ان کی یہ جیت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کھلی مخالفت اور وفاقی فنڈز بند کرنے کی دھمکیوں کے باوجود ممکن ہوئی۔

انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے زہران ممدانی کو بارہا نشانہ بنایا اور انہیں “کمیونسٹ جنونی” اور “نیویارک کے لیے تباہی” قرار دیا۔ ٹرمپ نے اپنی ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ “اگر کمیونسٹ امیدوار زہران ممدانی نیویارک کے میئر بن گئے تو میں وفاقی فنڈنگ بند کر دوں گا، سوائے اس کے جو قانوناً ضروری ہو۔ یہ شہر ان کے رہتے زندہ نہیں رہ سکے گا”۔ ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ ممدانی کی جیت کی صورت میں نیویارک کو وفاقی سطح پر مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے ریپبلکن ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ اینڈریو کومو کے حق میں ووٹ دیں تاکہ ممدانی کو روکا جا سکے۔ تاہم، ان کی یہ اپیل رائے دہندگان پر اثر انداز نہ ہو سکی۔

دوسری جانب، ممدانی نے ٹرمپ کی شدید تنقید کے باوجود صبر سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ “میں نیویارک کے شہریوں کی بھلائی کے لیے صدر کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہوں، مگر میں کسی دباؤ میں نہیں آؤں گا۔ اگر کوئی نیویارک کے عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کرے گا، تو میں اس کے خلاف ڈٹ کر کھڑا رہوں گا”۔ ممدانی کی انتخابی جیت صرف ایک سیاسی فتح نہیں بلکہ امریکی تاریخ میں اقلیتوں کی شمولیت اور مذہبی تنوع کی ایک بڑی علامت بن گئی ہے۔ وہ کوئنز سے تعلق رکھنے والے ایک سوشلسٹ نظریات کے حامل رکن ہیں، جنہوں نے محنت کش طبقے، پناہ گزینوں اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔

نیویارک سٹی کا میئر ہونا ایک انتہائی بااثر اور ذمہ دارانہ عہدہ ہے۔ دنیا کے سب سے اہم شہروں میں شمار ہونے والے نیویارک کی آبادی 80 لاکھ سے زائد ہے اور یہ شہر مالیات، ٹیکنالوجی، ثقافت اور فنون کا عالمی مرکز ہے۔ میئر کا دفتر تقریباً 116 ارب ڈالر کے سالانہ بجٹ کی نگرانی کرتا ہے، جو پولیس، تعلیم، رہائش، ٹرانسپورٹ اور شہری بہبود جیسے اہم شعبوں پر خرچ ہوتا ہے۔ نیویارک کی حیثیت نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی سطح پر سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی اثر و رسوخ کی حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کا میئر اکثر قومی سطح کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سابق میئرز مائیکل بلومبرگ اور بل ڈی بلاسیو کی طرح زہران ممدانی کی کامیابی کو بھی ممکنہ طور پر مستقبل کی قومی سیاست کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

انتخابی مبصرین کے مطابق، زہران ممدانی کی جیت ٹرمپ مخالف ووٹ بینک کے اتحاد، نوجوان نسل کی حمایت اور ترقی پسند پالیسیوں کے عزم کا نتیجہ ہے۔ ان کی مہم نے ماحولیاتی انصاف، رہائشی بحران، تعلیم میں برابری، اور شہری حقوق جیسے موضوعات کو مرکزِ توجہ بنایا۔ زہران ممدانی نے اپنی کامیابی کے بعد کہا کہ “یہ جیت صرف میری نہیں، بلکہ ہر اس نیویارکر کی ہے جو انصاف، برابری اور انسانیت پر یقین رکھتا ہے۔ ہم نے نفرت پر امید کی، تقسیم پر اتحاد کی اور جبر پر جمہوریت کی جیت دلوائی ہے”۔ نیو یارک کی تاریخ میں پہلی بار ایک مسلم میئر کا منتخب ہونا نہ صرف ایک سیاسی انقلاب ہے بلکہ امریکی جمہوریت کے تنوع، برداشت اور شمولیت کی روشن مثال بھی بن گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read