Bharat Express DD Free Dish

Iran Opposes US-Brokered Caucasus Transit Route: ایران نے امریکی حمایت یافتہ ’’قفقاز راہداری‘‘ کو روکنے کی دی دھمکی، کہا-خطے میں بیرونی مداخلت کے نتائج ہوں گے سنگین

ایران کی وزارت خارجہ کہا ہے کہ ایران کی سرحد کے قریب ہونے والے تمام منصوبوں میں ’’قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت‘‘ کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔

ایران نے قفقاز میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امریکہ کی ثالثی سے طے پانے والے امن معاہدے کے تحت مجوزہ ٹرانسپورٹ راہداری کو ’’سیاسی غداری‘‘ قرار دیتے ہوئے روکنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی رہبر اعلیٰ کے مشیر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ تہران یہ راہداری روس کے تعاون کے بغیر بھی روکنے کے لیے تیار ہے، حالاں کہ ایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک اتحاد ہے۔

علی اکبر ولایتی نے سخت الفاظ میں امریکی عزائم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ قفقاز کو ’’99 سال کے لیے کرائے پر لینے والی جائیداد‘‘ سمجھ رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ راہداری ٹرمپ کے کرائے کے فوجیوں کے لیے دروازہ نہیں بلکہ ’’قبرستان‘‘ بنے گی۔ واضح رہے کہ اس معاہدے کے تحت آرمینیا کی سرزمین سے گزر کر آذربائیجان کو اس کے علیحدہ علاقے نخیچیوان سے جوڑنے والی راہداری بنائی جائے گی، جسے ’’ٹرمپ روٹ فار انٹرنیشنل پیس اینڈ پروسپیرٹی (TRIPP)‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں امریکہ کو ترقیاتی حقوق دیے گئے ہیں اور یہ راہداری ایران کی سرحد کے قریب سے گزرے گی، جسے ایران نے اپنی سلامتی کے لیے خدشہ قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ خطے میں بیرونی مداخلتوں کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ وزارت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کی سرحد کے قریب ہونے والے تمام منصوبوں میں ’’قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت‘‘ کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب روس نے اس معاہدے کا محتاط انداز میں خیرمقدم کیا ہے، لیکن غیر علاقائی مداخلت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی مسائل کا حل مقامی ممالک کو ہی نکالنا چاہیے۔ روسی وزارت خارجہ نے امید ظاہر کی کہ یہ عمل مشرق وسطیٰ میں مغربی مداخلت جیسے ’’افسوسناک تجربات‘‘ کو دہرائے بغیر مکمل ہو گا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read