Bharat Express DD Free Dish

Azerbaijan

امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ فوجی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران نے جواباً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، ترکی اور آذربائیجان سمیت کئی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ تاہم سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ جب ان ممالک میں امریکی فوجی بیس نہیں تھے تو ایران نے انہیں نشانہ کیوں بنایا؟

جے ڈی وینس کا یہ بیان ایران کے حوالے سے امریکی موقف میں نرمی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ حال ہی میں امریکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے خیال کے لیے آمادہ نظر آ رہا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وہاں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے دوران مظاہرین سے ملکی اداروں پر ’قبضہ‘ کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

ترکی فضائیہ کا ایک فوجی طیارہ منگل کو جارجیا میں گر کر تباہ ہو گیا، جس میں سوار تمام 20 ترک فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے بعد ترکی اور جارجیا نے مشترکہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کہا ہے کہ ایران کی سرحد کے قریب ہونے والے تمام منصوبوں میں ’’قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت‘‘ کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔

یہ وہ علاقہ ہے جو بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن 1993 کی جنگ میں آرمینیائی افواج کے قبضے میں آ گیا۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد یہ علاقہ ایک پیچیدہ تنازع کا مرکز بن گیا۔

جیش پٹیل اور امیش کمار نے زی اسٹوڈیوز کے ساتھ مل کر براوو انٹرٹینمنٹ کے تحت اس فلم کو پروڈیوس کیا ہے۔ ’کپکپی‘ ملیالم بلاک بسٹر ’رومانچم‘ کا ہندی ریمیک ہے جس کی ہدایت کاری جیتھو مادھون نے کی تھی، جو سال 2023 میں ریلیز ہوئی تھی۔

انفو انڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں ہندوستان سے قریب 2.50 لاکھ سیاحوں نے آذربائیجان کا سفر کیا تھا۔ اگر ترکیہ کی بات کریں تو تقریباً 3 لاکھ ہندوستانی سیاح وہاں گئے تھے۔

ٹریومنٹ کے سی ای او آلوک کے سنگھ نے کہا ہے کہ "پاکستان، ترکی اور آذربائیجان جیسے ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سے، ہم نے ٹریومنٹ میں ایک مضبوط اور ذمہ دارانہ موقف اختیار کیا ہے۔ ہم نے ترکی اور آذربائیجان کے بائیکاٹ کے ہندوستانیوں کی کال کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔"

ہندوستان  کے آپریشن سندور پر امریکہ، اسرائیل اور یورپی ممالک نے واقعہ کو ایک درست اور تحمل سے بھرپور قدم قرار دیا اور اس کی تعریف کی۔ ہندوستان  نے واضح کیا کہ یہ حملے کسی پاکستانی شہری، فوجی یا اقتصادی اسٹیبلشمنٹ پر نہیں تھے۔ صرف جیش محمد، لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کے مضبوط ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے روسی فضائی حدود میں طیارے کے حادثے پر آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے معافی مانگ لی ہے۔