ریاض: سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے جازان میں اتوار کی صبح سعودی آرامکو کی ایک تنصیب میں لگنے والی آگ پر کمپنی کی صنعتی سکیورٹی فائر فائٹنگ ٹیم نے قابو پالیا۔ سعودی وزارت توانائی نے بتایا کہ واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔ وزارت نے کہا کہ آگ علاقے میں سعودی آرامکو ریفائنری سے وابستہ ایک تنصیب میں لگی تھی اور متعلقہ حکام واقعے سے نمٹنے کے لیے ضروری کارروائی مکمل کر رہے ہیں۔ سعودی وزارت توانائی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ’’سعودی آرامکو سے وابستہ صنعتی سکیورٹی فائر فائٹنگ ٹیموں نے آج اتوار کی صبح جازان میں سعودی آرامکو ریفائنری سے وابستہ ایک تنصیب میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘‘
آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں
وزارت توانائی نے فوری طور پر آگ لگنے کی وجہ نہیں بتائی۔ بیان میں کہا گیا کہ متعلقہ حکام واقعے سے نمٹنے کے لیے ضروری کارروائی مکمل کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب علاقائی ذرائع کی جانب سے سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انادولو ایجنسی کے مطابق جبیل کے علاقے میں ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے ’اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ‘ (آئی آر آئی بی) نے عرب ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جبیل انڈسٹریل سٹی میں گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور وہاں آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم دھماکے کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہوسکی اور جبیل کے واقعے کو جازان میں لگی آگ سے جوڑنے کی بھی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
جازان سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا اہم مرکز
بحیرہ احمر کے قریب یمن کی سرحد سے متصل سعودی عرب کے جنوب مغربی حصے میں واقع جازان میں سعودی آرامکو کی مربوط ریفائنری اور پیٹروکیمیکل کمپلیکس موجود ہے۔ اس وجہ سے یہ علاقہ سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔ تازہ واقعہ جولائی کے اواخر میں یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔ حوثی فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے 27 جولائی کو دعویٰ کیا تھا کہ گروپ نے جازان اور ینبع میں آرامکو سے وابستہ تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ حوثیوں نے اس وقت سعودی عرب کے مشرقی تیل پیدا کرنے والے علاقے کو بحیرہ احمر کی برآمدی بندرگاہ ینبع سے جوڑنے والے تیل کی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ تاہم سعودی حکام نے اب تک جازان میں تازہ آگ کو حوثی حملے کا نتیجہ قرار نہیں دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ، حوثیوں نے گیس پلانٹ کو نشانہ بنایا
دریں اثنا اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے جبیل علاقے میں گیس کی ایک تنصیب پر حملے کے پیچھے یمن کے حوثی باغی ہیں۔ اسرائیلی چینل 14 کے مطابق حوثیوں نے جبیل میں سعودی آرامکو کے ایک گیس پلانٹ کو نشانہ بنایا۔ یہ دعویٰ جبیل کے علاقے میں زور دار دھماکے اور صنعتی تنصیب میں آگ لگنے کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا۔ انادولو ایجنسی نے بھی علاقے میں دھماکے کی آواز سنے جانے کی اطلاع دی، جبکہ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے عرب ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جبیل انڈسٹریل سٹی میں گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور وہاں آگ بھڑک اٹھی۔
حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں ناکہ بندی کا اعلان
سعودی عرب کے مشرقی ساحل پر واقع جبیل انڈسٹریل سٹی مملکت کے بڑے صنعتی اور توانائی مراکز میں شامل ہے، جہاں پیٹروکیمیکل، ریفائننگ اور گیس سے متعلق وسیع بنیادی ڈھانچہ موجود ہے۔ یہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے درمیان پیش آیا ہے۔ ایران نواز حوثی گروپ نے گزشتہ ماہ بحیرہ احمر، بالخصوص باب المندب آبنائے کے علاقے میں ریاض کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ گروپ نے اس اقدام کی وجہ سعودی عرب کی جانب سے یمن کی ناکہ بندی کو قرار دیا تھا، تاہم ریاض نے اس دعوے کو مسترد کردیا تھا۔ حوثی گروپ اس سے قبل بھی سعودی عرب کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بناتا رہا ہے۔ سعودی عرب ماضی میں اس گروپ پر اپنی توانائی کی تنصیبات اور دیگر اسٹریٹجک مقامات کے لیے خطرہ بننے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی معاہدے کے بعد کشیدگی میں اضافہ
سعودی توانائی کی تنصیبات کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کی یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے جمعہ کو ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر دستخط کیے ہیں۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں طے پانے والے اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور فوجی تعاون کو مضبوط بنانا اور اجتماعی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ سمٹ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی بازدار قوت کو مضبوط بنانا ہے اور اس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اگرچہ معاہدے میں مخصوص فوجی ذمہ داریوں یا عملی کارروائیوں کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں، تاہم اس میں دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک فریم ورک قائم کیا گیا ہے اور خطے سمیت وسیع تر دنیا میں امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ کو اس کا بنیادی مقصد قرار دیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


