Urdu Conclave 2026

Expected outcomes from Putin’s visit: روسی صدر پوتن کےبھارت  دورے سے متوقع نتائج

روسی پوتن 23ویں بھارت-روس چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لئے آرہے ہیں، روسی صدر کے اس دورے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔توقع ہے کہ صدر پوتن کا دورہ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ صدر پوتن ایک بڑے تجارتی وفد کے ساتھ بھارت آ رہے ہیں۔

روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کا ہندوستان کا دو روزہ دورہ آج جمعرات 4 دسمبر سے شروع ہو رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پوتن آج شام نئی دہلی پہنچیں گے اور ان کا شاندار استقبال کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی وزرا ان کے ساتھ ہیں۔ اپنے دورے کے دوران پوتن پی ایم مودی کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کریں گے۔ دونوں ممالک کے لیڈران کئی تجارتی معاہدوں پر دستخط بھی کریں گے۔ پوتن 23 ویں ہندوستان روس چوٹی کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔

اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کی توقع

صدر پوتن کا دورہ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ صدر پوتن ایک بڑے تجارتی وفد کے ساتھ بھارت آ رہے ہیں۔ بھارت کو روس کے ساتھ تجارتی خسارے میں بہتری کی توقع ہے۔ روسی مارکیٹ میں بھارتی برآمدات بڑھانے کے لیے مختلف مواقع پر کام کیا جا رہا ہے۔ دواسازی، آٹوموبائلز، زرعی مصنوعات بشمول سمندری غذاؤں کے شعبوں میں برآمدات میں اضافہ شامل ہے۔ بھارتی کاروبار اور مصنوعات کے لیے وسیع منڈی دستیاب ہوگی، جس سے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا اور کسانوں کی آمدنی میں بہتری آئے گی۔شپنگ، صحت، کھاد اور رابطہ کاری کے شعبوں میں متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی توقع ہے۔ عوامی روابط، نقل و حرکت کی شراکت داری، ثقافت اور سائنسی تعاون کے شعبوں میں بھی مزید اشتراک دیکھنے کو ملے گا۔

توقع ہے کہ روسی صدر پوتن جمعرات کی شام نئی دہلی پہنچیں گے۔ چند گھنٹے بعد، پی ایم مودی ان کے لیے پرائیویٹ ڈنر کی میزبانی کریں گے۔ یہ عشائیہ ان کے دہلی پہنچنے کے چند گھنٹے بعد منعقد کیا جائے گا۔ اس عشائیہ کا مقصد ہندوستان اور امریکہ کے درمیان کشیدہ تعلقات ،  دونوں ممالک کے درمیان مجموعی اسٹریٹجک اور اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانا ہوگا۔ اس کے بعد جمعہ کو پی ایم مودی اور پوتن کے درمیان ملاقات ہوگی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو بڑھانے، ہندوستان-روس کے کاروبار کو بیرونی دباؤ سے بچانے اور چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز میں تعاون کی تلاش پر توجہ دی جائے گی۔ توقع ہے کہ مغربی ممالک بھی اس ملاقات پر نظر رکھیں گے۔

روس –یوکرین تنازع

روسی لیڈر یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے نئی امریکی کوششوں کے درمیان ہندوستان کا دورہ کر رہے ہیں، اس لیے توقع ہے کہ یہ مسئلہ سربراہی اجلاس میں ایک کلیدی مسئلہ ہوگا۔ اگلے دن، جمعہ، پوتن کا 23 ویں ہندوستان-روس سربراہی اجلاس سے پہلے سرکاری طور پر خیرمقدم کیا جائے گا۔ اس سے پہلے وہ مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے راج گھاٹ جائیں گے۔

پوتن روس کے سرکاری نشریاتی ادارے کے نئے انڈیا چینل کا آغاز کریں گے

سربراہی اجلاس کے بعد، پوتن روس کے سرکاری نشریاتی ادارے کے نئے انڈیا چینل کا آغاز کریں گے، اس کے بعد صدر دروپدی مرمو کی طرف سے ایک ضیافت کا اہتمام کیا جائے گا۔ پوتن کا ہندوستان کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ دو دہائیوں میں شاید اپنے بدترین دور سے گزر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہندوستانی اشیا پر بھاری 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے جس میں روسی خام تیل کی خریداری پر 25 فیصد ٹیکس بھی شامل ہے۔ اس سمٹ میں روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری پر امریکی پابندی کے اثرات پر بات چیت کا امکان ہے۔

دونوں فریقین سے کئی معاہدوں پر دستخط کیے جانے کی توقع

توقع ہے کہ سربراہی اجلاس میں پوتن مودی کو یوکرین کے تنازع کو حل کرنے کے لیے امریکہ کی نئی کوششوں کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ ہندوستان نے مسلسل کہا ہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان تین سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کا واحد راستہ بات چیت اور سفارت کاری ہے۔ مودی-پوتن کی بات چیت کے بعد، دونوں فریقین سے کئی معاہدوں پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے، جن میں سے ایک ہندوستانی کارکنوں کی روس میں نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنا اور دوسرا دفاعی تعاون کے وسیع فریم ورک کے اندر لاجسٹک سپورٹ پر ہے۔ ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ روس کو ہندوستانی برآمدات میں دواسازی، زراعت، غذائی مصنوعات اور اشیائے صرف کے شعبوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read