Urdu Conclave 2026

Putin Visit

مغربی ممالک کے ساتھ دوطرفہ معاہدوں کی بھرمار کے درمیان بھارت اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات ایک بار پھر مضبوط ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ روسی صدر پوتن برکس سربراہی اجلاس کے لیے بھارت آئیں گے۔ وہیں، وزیر اعظم مودی بھی اس سال سالانہ سربراہی اجلاس کے لیے روس کا دورہ کریں گے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن اور وزیراعظم نریندر مودی نے حیدرآباد ہاؤس میں ایک انتہائی خاص ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد وزیراعظم مودی نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور روس کی دوستی بالکل قطبی ستارے کی طرح ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ روس اور بھارت کے درمیان دوستانہ تعلقات کس طرح گہرے ہوتے گئے۔

وزیر اعظم مودی نے دہلی میں روسی صدر پوتن کے اعزاز میں اہم دو طرفہ مذاکرات سے قبل ایک پُرمحبت نجی عشائیے کی میزبانی کی۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن کے بھارت دورے کے دوران وہ دہلی کے آئی ٹی سی موریا ہوٹل کے چانکیہ سوئیٹ میں قیام کریں گے۔ یہ سوئیٹ اپنی شان و شوکت، سخت سکیورٹی اور شاندار مناظر کے لیے مشہور ہے۔ یہاں انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں جن میں بلیٹ پروف کھڑکیاں بھی شامل ہیں۔ اس سوئیٹ کا کرایہ تقریباً 8 سے 10 لاکھ روپے فی رات ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔

روسی پوتن 23ویں بھارت-روس چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لئے آرہے ہیں، روسی صدر کے اس دورے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔توقع ہے کہ صدر پوتن کا دورہ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ صدر پوتن ایک بڑے تجارتی وفد کے ساتھ بھارت آ رہے ہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن بھارت کے دورے پر آ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ امبانی کے دوست بھی بھارت آ رہے ہیں۔ ان کا ریلائنس انڈسٹریز سے گہرا تعلق ہے۔ امریکہ کی جانب سے روس نیفٹ پر عائد پابندیوں کے بعد بھارت-روس کے تیل کے کاروبار پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن تیئیسویں بھارت روس سمٹ میں شامل ہونے کے لیے آج جمعرات 4 دسمبر 2025 کو بھارت آ رہے ہیں۔ پوتن کا یہ دو روزہ دورہ ہے۔وزیر اعظم مودی اور روسی صدر پوتن کے درمیان تقریباً 25 سال پرانا رشتہ ہے۔

روسی صدر پوتن نے وزیراعظم نریندر مودی کو ’’بااعتماد ساتھی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ  بھارت-روس تعلقات تاریخی اور خصوصی نوعیت کے ہیں۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف صدر پتن کے دورے سے قبل بھارت آئیں گے۔ سربراہی اجلاس کی تیاری اور اہم دوطرفہ معاملات پر گفتگو کا امکان۔