جاپان میں زلزلے کے شدید جھٹکوں سے زمین کانپ اٹھی۔ یہ زلزلہ ہفتہ کی دیر رات 4 اکتوبر کو ہونشو جزیرے کے مشرقی ساحل کے قریب آیا۔ جھٹکے اتنے شدید تھے کہ آس پاس کی عمارتیں بھی ہلنے لگیں ۔ اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.0 ماپی گئی ہے۔ قومی زلزلہ سائنس مرکز (NCS) کے مطابق اس زلزلے کا مرکز زمین کی گہرائی میں 50 کلومیٹر تھا، جو عام طور پر درمیانے سے شدید زلزلوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
زلزلے کا مرکز ہونشو جزیرے کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر میں تھا، جس کی وجہ سے سب سے زیادہ جھٹکے ساحلی علاقوں، جیسے فکوشیما، میاگی اور ایواتی صوبوں میں محسوس کیے گئے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق زلزلے کے جھٹکے کئی سیکنڈ تک محسوس کیے گئے، جس کے باعث لوگ گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل کر کھلے مقامات کی طرف بھاگے۔ خوش قسمتی سے اب تک کسی بڑے نقصان یا جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
سونامی کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی
جاپان کے موسمیاتی ادارے (JMA) اور پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر نے تصدیق کی ہے کہ اس زلزلے کے بعد سونامی کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی۔ اگرچہ زلزلے کا مرکز سمندر کے اندر تھا، لیکن 50 کلومیٹر کی گہرائی کی وجہ سے سونامی کے خطرے کو کم سمجھا گیا ہے۔
جاپان ایک زلزلہ حساس ملک
جاپان پیسیفک رنگ آف فائر زلزلہ پٹی میں واقع ہے جہاں ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت مسلسل جاری رہتی ہے۔ اس خطے میں معمولی اور درمیانے درجے کے زلزلے اکثر ہوتے رہتے ہیں، جب کہ بڑے زلزلے کبھی کبھار شدید تباہی مچاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان میں عمارتیں اور پل زلزلہ مزاحم معیارات کے مطابق بنائے گئے ہیں، جس کی وجہ سے زلزلے کے اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
جاپان کا اب تک کا سب سے تباہ کن زلزلہ 11 مارچ 2011 کو آیا تھا ،جس نے بڑی تباہی مچائی تھی۔ جاپان کے توہوکو (مشرقی جاپان) میں 9.0-9.1 شدت کے زلزلے کے آدھے گھنٹے بعد 40 میٹر سے زیادہ بلند سونامی سمندر سے ٹکرا گئی۔ اس نے پورے جاپان میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ اس قدرتی آفت میں 18,000 سے زائد افراد ہلاک اور لاپتہ ہوئے تھے اور بنیادی ڈھانچے کو کافی نقصان پہنچا۔ 2011 کے زلزلے نے جاپان کے فوکوشیما جوہری پلانٹس کو بھی متاثر کیا تھا۔ زلزلے کی وجہ سے فوکوشیما پاور پلانٹ میں لیکیج ہو گئی تھی۔ اس واقعے کو جاپان کی تاریخ کی سب سے تباہ کن قدرتی آفات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



