Bharat Express DD Free Dish

Japan Earthquake

جاپانی ٹیلی ویژن چینلوں پر دکھائی جانے والی تصاویر میں دکانوں کے ٹوٹے ہوئے شیشے اور سڑکوں پر بکھرے کانچ کے ٹکڑے صاف نظر آئے۔ ایک کتابوں کی دکان کا منظر ایسا تھا جیسے الماریوں میں رکھی کتابیں باہر نکل کر زمین پر ڈھیر ہو گئی ہوں۔زلزلے کے اچانک جھٹکوں سے لوگ خوف زدہ ہو گئے اور عمارتوں سے باہر کی جانب بھاگنے لگے۔ اس دوران بھگدڑ مچ گئی اور کئی افراد سیڑھیوں سے گر کر زخمی ہو گئے۔ مجموعی طور پر تقریباً 22 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

جنوبی بحرالکاہل میں واقع جزیرہ نما ملک وانواتو میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ زلزلے کی شدت 7.1 ریکارڈ کی گئی تھی۔قومی مرکز برائے زلزلہ سائنس کے مطابق، یہ زلزلہ 24 اکتوبر کو صبح 8 بج کر 1 منٹ پر آیا۔ وانواتو جنوبی بحرالکاہل میں واقع ایک جزیرہ نما ملک ہے، جہاں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔

شمالی بحرالکاہل میں اتوار کو زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.1 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے جھٹکوں سے جاپان کے کئی علاقوں میں زمین لرز اٹھی، جس کے بعد مقامی سطح پر لوگوں میں تشویش پھیل گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلہ سمندر میں آیا، جس کی وجہ سے اس کے اثرات جاپان کے مختلف حصوں تک محسوس کیے گئے۔

جاپان کی موسمیاتی ایجنسی کے مطابق زلزلہ جنوبی ایباراکی صوبے میں آیا۔ زلزلے کا مرکز زمین کی سطح سے تقریباً 70 کلومیٹر کی گہرائی میں بتایا گیا ہے۔ زلزلے کے جھٹکے ٹوکیو سمیت مشرقی جاپان کے متعدد علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ حکام کے مطابق زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی،

زلزلے کے بعد چکرواتی طوفان ’ڈولفن‘ جاپان میں تباہی مچا رہا ہے۔ طوفان جاپان کو عبور کرنے کے بعد چین پہنچے گا، جہاں پہلے ہی ایمرجنسی اور ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ بندرگاہیں اور فیری روٹس بند کر دیے گئے ہیں تاکہ طوفان سے ہونے والے جانی نقصان کو کم کیا جا سکے۔

زلزلے کے بعد ہونے والے ایک بڑے دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد کو نکالا گیا۔ ان میں سے سات افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ پانچ زخمی ہیں۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں اب بھی عمارت کے اندر ممکنہ طور پر پھنسے ہوئے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔صوبائی حکام کے مطابق اس وقت متاثرہ علاقوں میں قائم 406 امدادی پناہ گاہوں میں 9 ہزار 400 سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں،

جاپان میں ایک بار پھر شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.1 ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد ملک میں سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی۔ زلزلے کے اثرات پڑوسی ملک چین تک بھی محسوس کیے گئے، جس کے باعث متاثرہ علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

جاپان کی وزیر اعظم سنائے تاکائیچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ موجودہ زلزلے کے بعد سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت 25 جون کے زلزلے کے بعد وزیر اعظم کے دفتر میں قائم کرائسس مینجمنٹ آفس کے ذریعے صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ 

دوسری جانب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جن علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، وہاں چٹانوں کے گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ جاپان  کی مانیٹرنگ ایجنسی کے حکام نے یہ بھی انتباہ دیا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں اسی شدت کے مزید زلزلے آنے کا امکان موجود ہے،

وزیراعظم سنائے تاکائیچی نے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ مقامات اور بلند علاقوں کی طرف منتقل ہو جائیں۔ اسی دوران جے آر ایسٹ نے ٹوہوکو شنکانسن بلٹ ٹرین سروس کو ٹوکیو اور شن-آوموری کے درمیان معطل کر دیا ہے۔