Urdu Conclave 2026

Donald Trump Marine: ڈونلڈ ٹرمپ بال بال بچے! فضا میں موت سے قریبی سامنا، امریکہ میں افراتفری کا ماحول

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فوجی ہیلی کاپٹر ’میرین ون‘ واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک کمرشل مسافر طیارے کے انتہائی قریب آ گیا۔ اس واقعے کو فضائی اصطلاح میں ’لاس آف سیپریشن‘ (طیاروں کے درمیان محفوظ فاصلے میں کمی) قرار دیا جا رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (NTSB) نے معاملے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

امریکہ سے ایک چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایک بڑے فضائی خطرے سے بال بال بچ گئے جب انہیں لے جانے والا فوجی ہیلی کاپٹر ’میرین ون‘ واشنگٹن کی فضائی حدود میں ایک مسافر طیارے کے انتہائی قریب پہنچ گیا۔ اطلاعات کے مطابق دونوں فضائی جہازوں کے درمیان فاصلہ ایک میل سے بھی کم رہ گیا، جس کے بعد امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (NTSB) نے اس واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

فضا میں کیسے پیش آیا یہ خطرناک واقعہ؟

رپورٹ کے مطابق منگل 4 اگست کو صدر ٹرمپ کا ہیلی کاپٹر ’میرین ون‘ وائٹ ہاؤس سے اینڈریوز ایئر فورس بیس کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اسی دوران امریکن ایئرلائنز کی ایک علاقائی پرواز واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ (DCA) سے ٹیک آف کر رہی تھی۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرول (ATC) کے ساتھ مبینہ طور پر غیر واضح رابطے کے باعث دونوں طیارے ایک دوسرے کے انتہائی قریب آ گئے۔ امریکی حکام نے اس صورتحال کو فضائی اصطلاح میں ’لاس آف سیپریشن‘ قرار دیا ہے، یعنی دونوں طیاروں کے درمیان لازمی حفاظتی فاصلہ برقرار نہیں رہ سکا۔

کیا فضائی حفاظت کے اصول کی خلاف ورزی ہوئی؟

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق فضائی سلامتی کے قواعد کے تحت ایسے حالات میں دو طیاروں کے درمیان کم از کم ڈیڑھ میل افقی اور 500 فٹ عمودی فاصلہ برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ تاہم اس واقعے میں دونوں طیاروں کے درمیان یہ فاصلہ خطرناک حد تک کم ہو گیا، جس سے کسی بڑے حادثے کا خدشہ پیدا ہو سکتا تھا۔

وائٹ ہاؤس اور ایف اے اے کا مؤقف

اس واقعے کے باوجود وائٹ ہاؤس کے ترجمان کش دیسائی نے صدر کے ہیلی کاپٹر آپریشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرین ون دنیا کے بہترین پائلٹوں کے ذریعے اڑایا جاتا ہے اور صدر کو کسی بھی وقت کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔‘‘دوسری جانب امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) نے بھی واضح کیا کہ ایئر ٹریفک کنٹرولر دونوں طیاروں کے پائلٹوں سے مسلسل رابطے میں تھا اور صدر ٹرمپ پوری طرح محفوظ رہے۔ فی الحال اس ’کلوز کال‘ کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کی کسی ممکنہ کوتاہی سے بچا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read