Bharat Express DD Free Dish

Dengue Outbreak Continues In Bangladesh : بنگلہ دیش میں ڈینگی بخار کا قہر جاری، 24 گھنٹوں میں 1100 سے زائد نئے کیسز اور 5 اموات درج

بنگلہ دیش میں ڈینگی بخار کا پھیلاؤ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ملک کی وزارتِ صحت کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 1,147 نئے ڈینگی کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ مزید 5 مریضوں کی موت کی تصدیق ہوئی ہے۔

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں ڈینگی بخار کا پھیلاؤ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ملک کی وزارتِ صحت کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 1,147 نئے ڈینگی کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ مزید 5 مریضوں کی موت کی تصدیق ہوئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، نومبر کے آغاز سے اب تک 2,960 نئے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جس کے ساتھ سال 2025 میں مجموعی طور پر 72,822 کیسز اور 288 اموات درج کی جا چکی ہیں۔

خبر رساں ایجنسی “شِنہوا” کے مطابق، بنگلہ دیش میں عام طور پر ڈینگی کا موسم جون سے ستمبر تک سمجھا جاتا ہے، تاہم اس سال وائرس کی سرگرمی عام سیزن سے باہر بھی جاری ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، مانسون ختم ہونے کے بعد بھی ڈینگی کے کیسز میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، ڈینگی ایک وائرس سے پھیلنے والا انفیکشن ہے جو متاثرہ مچھر کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ بیماری دنیا کے گرم اور مرطوب خطوں خصوصاً شہری اور نیم شہری علاقوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس کے پھیلاؤ کے اہم ذرائع ایڈیز ایجپٹی اور ایڈیز ایلبوپکٹس مچھر ہیں۔ ڈینگی کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں، تاہم وقت پر تشخیص، مناسب دیکھ بھال اور سنگین علامات پر فوری توجہ سے اموات کی شرح 1 فیصد سے بھی کم کی جا سکتی ہے۔

ڈینگی بخار پہلی بار 1960 کی دہائی میں بنگلہ دیش (اس وقت مشرقی پاکستان) میں سامنے آیا تھا، جب اسے “ڈھاکا فیور” کہا جاتا تھا۔ 2010 کے بعد یہ مرض مئی سے ستمبر کے دوران زیادہ پھیلتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، بارش میں اضافہ، سیلاب، درجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلی اور موسمیاتی بے ترتیبی نے ڈینگی، ملیریا اور چکن گنیا جیسے امراض کے پھیلاؤ کے لیے سازگار حالات پیدا کر دیے ہیں۔ بنگلہ دیش میں ڈینگی ایک مستقل مقامی مرض بن چکا ہے جو اکثر وبا کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ملک میں چاروں قسم کے ڈینگی وائرس کی نشاندہی ہو چکی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read