Bharat Express DD Free Dish

Arrest warrants against Sheikh Hasina: بنگلہ دیش کی عدالت نے بدعنوانی کے مقدمات میں شیخ حسینہ کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیے

اے سی سی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر (پراسیکیوشن) امین الاسلام کے حوالے سے بتایا کہ جج حسین نے گرفتاری کے احکامات پر عمل درآمد سے متعلق رپورٹس کا جائزہ لینے کے لیے 27 اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے۔

بنگلہ دیش کی عدالت نے معزول وزیراعظم شیخ حسینہ، ان کی بہن شیخ ریحانہ، برطانوی رکن پارلیمنٹ تُلِپ رضوانہ صدیق اور 50 دیگر کے خلاف سیاسی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر زمین حاصل کرنے کے الزام میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔ ڈھاکہ ٹربیون کی خبر کے مطابق ڈھاکہ میٹروپولیٹن کے سینئر خصوصی جج ذاکر حسین نے انسداد بدعنوانی کمیشن (اے سی سی) کی طرف سے دائر تین الگ الگ چارج شیٹس پر غور کرنے کے بعد یہ حکم دیا ہے۔ اخبار نے اے سی سی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر (پراسیکیوشن) امین الاسلام کے حوالے سے بتایا کہ جج حسین نے گرفتاری کے احکامات پر عمل درآمد سے متعلق رپورٹس کا جائزہ لینے کے لیے 27 اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے۔

کئی معاملات میں عدالت کو مطلوب ہیں شیخ حسینہ

عدالتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بنگالی اخبار پرتھم آلو نے رپورٹ کیا ہے کہ اے سی سی نے حال ہی میں پلاٹ کی الاٹمنٹ میں بدعنوانی کے الزامات پر تین الگ الگ مقدمات میں 53 افراد کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ جمع کرائی ہیں۔ اخبار نے کہا کہ حسینہ سمیت تمام 53 ملزمان مفرور ہیں، عدالت نے ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔ اس سے قبل 10 اپریل کو اسی عدالت نے حسینہ، ان کی بیٹی صائمہ اور دیگر 17 کے خلاف راجوک پلاٹ کی الاٹمنٹ سے متعلق ایک الگ کرپشن کیس میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ کی بیٹی صائمہ یکم نومبر 2023 سے نئی دہلی میں واقع ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کی جنوب مشرقی ایشیائی علاقائی ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ 13 جنوری کو اے سی سی نے شیخ حسینہ کی بہن ریحانہ کے خلاف پرباچل نیو ٹاؤن پروجیکٹ میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے مبینہ طور پر 10 کٹھے کا پلاٹ حاصل کرنے کا مقدمہ درج کیا تھا۔ اس کیس میں شیخ حسینہ اور ان کی بھانجی برطانوی قانون ساز تُلِپ رضوانہ صدیق سمیت 15 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔ریحانہ کے پاس اس وقت کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا۔

خاندان کے اور بھی کئی افراد پر ہے بدعنوانی کا الزام

تحقیقات کے بعد اے سی سی نے 10 مارچ کو 17 افراد کے خلاف چارج شیٹ پیش کی، جس میں مزید دو نام شامل کیے گئے۔ ایک دوسرے کیس میں اے سی سی نے پرباچل میں 10 کٹھہ کے پلاٹ کے حصول میں اسی طرح کی بے ضابطگیوں کے لیے عظمینہ صدیق کے خلاف الزامات عائد کیے ہیں۔ اس مقدمے میں ابتدائی طور پر عظمینہ صدیق اور شیخ حسینہ سمیت 16 ملزمان شامل تھے۔ 10 مارچ کو جمع کرائی گئی حتمی چارج شیٹ میں 18 لوگوں کے نام شامل ہیں۔

اے سی سی نے اسی دن ریحانہ کے بیٹے رضوان مجیب صدیق کے خلاف تیسرا مقدمہ درج کیا، جس پر سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے پلاٹ حاصل کرنے کا الزام ہے۔ ابتدائی شکایت میں نامزد 16 افراد میں صدیق اور شیخ حسینہ بھی شامل ہیں۔ حتمی چارج شیٹ میں 18 ملزمان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حسینہ پر اجتماعی قتل اور انسانیت مخالف جرائم، جبری گمشدگی جیسے متعدد الزامات بھی عائد ہیں۔ واضح رہے کہ حسینہ کی 16 سالہ عوامی لیگ کی حکومت گزشتہ سال 5 اگست کو ایک عوامی بغاوت کے بعد گرا دی گئی۔ تب سے 77 سالہ حسینہ ہندوستان میں ہی مقیم ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read