Bharat Express DD Free Dish

Bangladesh Court

ڈھاکہ کی ایک خصوصی عدالت نے پرباچل پلاٹ اسکینڈل میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو 10 سال اوران کی بھانجی ٹیولپ صدیق کو4 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کیس میں شیخ حسینہ کے خاندان کے دیگرافراد کوبھی سزا سنائی گئی تھی۔

بنگلہ دیش سے ایک اور بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ عدالت نے شیخ حسینہ کو ایک مقدمے میں 5 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ان کی بہن ریحانہ کو 7 سال اور برطانیہ کی رکنِ پارلیمنٹ کو 2 سال کی سزا دی گئی ہے۔

بنگلادیش کی ایک خصوصی عدالت نے جمعرات کے روز سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو تین کرپشن کیسز میں مجموعی طور پر اکیس سال قید کی سزا سناتے ہوئے ملک کی سیاست میں ایک بڑا موڑ پیدا کر دیا ہے۔ ڈھاکہ کے اسپیشل جج محمد عبداللہ نے اپنے فیصلے میں بتایا کہ ہر مقدمے میں سات سال قید کی سزا مقرر کی گئی ہے، جبکہ انہی الزامات سے متعلق باقی تین مقدمات کا فیصلہ یکم دسمبر کو سنایا جائے گا۔

بنگلہ دیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کو انٹرنیشنل کرائم ٹربیونل (آئی سی ٹی) کی جانب سے دی گئی سزائے موت کے فیصلے کے بعد ملک کی سیاست میں بھونچال آ گیا ہے۔ شیخ حسینہ کے بیٹے اور عوامی لیگ پارٹی کے اہم لیڈر ساجیب احمد واجد نے اس فیصلے کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے یونُس حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

بنگلہ دیش میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (آئی سی ٹی) 17 نومبر کو سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں اپنا فیصلہ سنائے گا۔ ڈھاکہ اور دیگر شہروں میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ بنگلہ دیش ہائی الرٹ پر ہے، فوج اور پولیس کی تعیناتی اور ملک بھر میں لاک ڈاؤن ہے۔

بتادیں کہ آئی سی ٹی کا قیام 2010 میں خود شیخ حسینہ کی حکومت نے 1971 کی جنگ آزادی کے دوران پاکستانی فوج اور ان کے مقامی ساتھیوں کے جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات کے لیے کیا تھا۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ وہی ٹریبونل اب انہیں سزا دے رہا ہے۔

اے سی سی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر (پراسیکیوشن) امین الاسلام کے حوالے سے بتایا کہ جج حسین نے گرفتاری کے احکامات پر عمل درآمد سے متعلق رپورٹس کا جائزہ لینے کے لیے 27 اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے۔