ایران–اسرائیل–امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد عارضی قیادت کا انتظام کیا گیا ہے۔ ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کی غیر موجودگی میں ایک تین رکنی عبوری کونسل اقتدار سنبھالتی ہے۔ اس کونسل میں صدر مسعود پہژشکیان، چیف جسٹس غلام حسین محسنی اجئی اور قانونی ماہر کے طور پر آیت اللہ علی رضا اعرافی شامل ہیں۔
عبوری سپریم لیڈر کی ذمہ داری کس کو ملی؟
ایرانی سرکاری میڈیا اور دیگر رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی رضا اعرافی کو کونسل کے قانونی ماہر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وہ فی الحال سپریم لیڈر کی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔ یہ انتظام اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اسمبلی آف ایکسپرٹس مستقل جانشین کا انتخاب نہیں کر لیتی۔ اعرافی کو اس عارضی قیادت کی ذمہ داری ملنے سے پہلے ہی وہ گارڈین کونسل اور ایکسپرٹس اسمبلی کے رکن، ایران کے حوزہ علمیہ کے سربراہ، اور بسیج فورس کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔
آیت اللہ علی رضا اعرافی کا تعلق ۱۹۵۹ میں یزد صوبے کے میابود شہر سے ہے۔ وہ ایران کے مذہبی ادارے میں ایک نمایاں شخصیت ہیں۔ وہ گارڈین کونسل کے رکن ہیں، جو قوانین کی آئینی حیثیت کی نگرانی کرتی ہے۔ وہ ایکسپرٹس اسمبلی کے رکن بھی ہیں، جو سپریم لیڈر کا انتخاب کرتی ہے۔ اعرافی ایران کے حوزہ علمیہ کے سربراہ ہیں اور بسیج فورس کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ وہ خامنہ ای کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے ہیں اور ادارہ جاتی طور پر مضبوط حیثیت رکھتے ہیں۔
سپریم لیڈر سے متعلق ایران کا آئین کیا کہتا ہے؟
ایران کے آئین کے آرٹیکل ۱۱۱ کے مطابق سپریم لیڈر کی موت یا غیر موجودگی کی صورت میں صدر، چیف جسٹس اور گارڈین کونسل کے ایک قانونی ماہر پر مشتمل تین رکنی کونسل عبوری طور پر اقتدار سنبھالتی ہے۔ یہ کونسل اس وقت تک کام کرتی ہے جب تک ایکسپرٹس اسمبلی نیا سپریم لیڈر منتخب نہیں کر لیتی۔ اعرافی کی عارضی قیادت اسی آئینی عمل کے تحت ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اراقی کی ادارہ جاتی طاقت اور خامنہ ای کے ساتھ قربت انہیں اس کردار کے لیے موزوں بناتی ہے۔
خامنہ ای کی موت کے بعد ایران میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کی وجہ سے ملک پہلے ہی بحران میں ہے۔ اعرافی کے قیادت میں ایران کس طرح جوابی کارروائی کرے گا یہ دیکھنا باقی ہے۔ فی الحال کونسل اقتدار سنبھال رہی ہے اور نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے کا عمل جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


