Bharat Express DD Free Dish

PM Shehbaz Sharif and Asim Munir: ضیاءالحق اور پرویز مشرف کے بعد اب عاصم منیر… پاکستان میں آئینی ترمیم کے بعد شہباز حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی، کیا پڑوسی ملک پر دوبارہ ہوگا فوج کا کنٹرول؟

پاکستان میں حالیہ آئینی ترمیم نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) بنا دیا گیا ہے، جس کے بعد ان کے اختیارات ناقابلِ یقین حد تک بڑھ گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے لیے نئی مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔

اسلام آباد: پاکستان میں حالیہ آئینی ترمیم نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) بنا دیا گیا ہے، جس کے بعد ان کے اختیارات ناقابلِ یقین حد تک بڑھ گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم پاکستان میں ایک بار پھر فوجی اثر و رسوخ کے مضبوط ہونے کا اشارہ ہے، جس سے وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے لیے نئی مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔

فوجی اقتدار کی تاریخ اور منیر کا بڑھتا قد
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ بھارت کے ساتھ ہوئی ہر بڑی جنگ کے بعد ملک میں فوجی حکمران سامنے آئے۔ سال 1971 کی جنگ کے بعد جنرل ضیاءالحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ کارگل جنگ کے بعد جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو ہٹا کر اقتدار سنبھال لیا۔ اب ’آپریشن سندور‘ کے بعد موجودہ آرمی چیف عاصم منیر کا عروج بھی اسی پیٹرن کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ پہلے انہیں ’’فیلڈ مارشل‘‘ کا درجہ دیا گیا اور اب آئینی ترمیم کے ذریعے سی ڈی ایف بنانا واضح کرتا ہے کہ فوج کا کنٹرول پچھلی دہائیوں کے مقابلے میں زیادہ منظم اور مضبوط ہو گیا ہے۔

سی ڈی ایف بننے کے بعد منیر کو ملی بے مثال طاقت
نئی آئینی ترمیم کے مطابق اب پاکستان کی بری، بحری اور فضائی تینوں افواج براہ راست جنرل منیر کے ماتحت ہوں گی۔ ملک کے نیوکلئیر ہتھیاروں کا مکمل کنٹرول بھی ان کے پاس ہوگا، جو بھارت سمیت خطے کے ممالک کے لیے تشویش کا باعث سمجھا جا رہا ہے۔ انہیں آئینی استثنا بھی حاصل ہوگا، یعنی ان پر کسی عدالتی مقدمے کی کارروائی ممکن نہیں۔ یہ تقرری پانچ سال کے لیے کی گئی ہے، جسے مستقبل میں مزید بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اختیارات انہیں پاکستان کا سب سے بااثر شخص بنا دیتے ہیں، جو ملک کی سیاسی سمت کا فیصلہ بھی بڑی حد تک طے کر سکتے ہیں۔

سیاسی بحران کی آہٹ
اپوزیشن جماعتوں نے اس ترمیم کو ’’حکومت کی خودسپردگی‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کے بعد پاکستان کی جمہوریت محض نمائشی رہ گئی ہے، جبکہ اصل طاقت ایک بار پھر جی ایچ کیو کے پاس چلی گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ جنرل منیر کی بڑھتی طاقت شہباز شریف حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ پاکستان میں فوج اور سیاسی حکومت کے درمیان طاقت کی جنگ کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس بار معاملہ زیادہ سنگین اس لیے ہے کیونکہ سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور سکیورٹی چیلنجز تینوں ملک کو گھیرے ہوئے ہیں۔

کیا شہباز شریف کی کرسی خطرے میں؟
اگرچہ نئی طاقتیں خود حکومت نے ہی منیر کو دی ہیں، مگر سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اتنے اختیارات ملنے کے بعد کیا منیر پاکستان کے سب سے بااثر حکمران بن چکے ہیں؟ کیا ایک بار پھر پاکستان فوجی اثر کے تحت چلنے والا ملک بننے جا رہا ہے؟ اور سب سے بڑا سوال، کیا وزیراعظم شہباز شریف کی کرسی محفوظ ہے؟ پاکستان کی سیاسی فضا میں بڑھتی بے چینی اور فوج کے بڑھتے قدم اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ آنے والے مہینے پاکستان کی سیاست میں ایک بڑا موڑ لا سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read