Bharat Express DD Free Dish

Prime Minister Shehbaz Sharif

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ انہوں نے اب تک دنیا کے آٹھ بڑے جنگی تنازعات کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ہم ممکنہ جوہری جنگ میں مداخلت نہ کرتے، تو تین کروڑ افراد کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیر اعظم کی موت ہو جاتی‘‘۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا، ’’ہم نے ٹی20 ورلڈ کپ کے بارے میں صاف فیصلہ کیا ہے کہ ہم بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ تمام پہلوؤں پر غور اور محتاط تجزیے کے بعد کیا گیا ہے۔ شہباز شریف نے ایک طرف اس بائیکاٹ کو درست قرار دیا،

پاکستان کی شدید معاشی بدحالی نے حکومت کو ایک اور بڑا اور تاریخی فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت والی حکومت نے ملک کی قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو نجی شعبے کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ سودا 135 ارب پاکستانی روپے میں طے پایا، جسے پاکستان کی تاریخ کے بڑے نجکاری سودوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں حالیہ آئینی ترمیم نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) بنا دیا گیا ہے، جس کے بعد ان کے اختیارات ناقابلِ یقین حد تک بڑھ گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے لیے نئی مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات نے پاکستان کے لیے نئی مالی راہیں کھول دی ہیں۔ شدید معاشی بدحالی کے شکار پاکستان کو آئی ایم ایف نے 1.2 بلین امریکی ڈالر (تقریباً 10,782 کروڑ روپے) کے قرض کی منظوری دے دی ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک عدالت میں ہونے والے خودکش دھماکے نے خطے میں ایک نئی سیاسی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ دھماکے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہوئے۔ واقعے کے چند گھنٹوں بعد ہی پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس حملے کا الزام بھارت پر عائد کیا، جس پر نئی دہلی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

پاکستان کی شہباز شریف حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی پارٹی سے جڑے 27 یوٹیوب چینلوں کو بلاک کردیا ہے۔ نیشنل سائبرکرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی عرضی پر یہ کارروائی کی گئی۔ چینل مالکان کا کہنا ہے کہ انہیں بغیرسنے ہی سزا دی گئی ہے۔

جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی برقرار ہے، اور شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش کو بھارت نے ابھی تک باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا۔ پاکستانی وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کی سفارتی کوششوں کی بھی تعریف کی۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر ایس جئے شنکر نے کہا کہ تعاون باہمی احترام اور خود مختار مساوات پر مبنی ہونا چاہیے،اس دوران انہوں  نے 3 برائیوں - دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کے خلاف اپنی بات رکھتے ہوئے پاکستان کو آئینہ دکھا یا اور کہا کہ اس کے خلاف ہر کسی کو مضبوطی کے ساتھ  اوربغیر کسی سمجھوتہ  کےمقابلہ کرنا چاہیے۔

پاکستان نےگزشتہ روز کہا تھا کہ وہ ہندوستان سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔ تاہم، جب پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ ملک نے نریندر مودی کو ان کی انتخابی جیت پر مبارکباد کیوں نہیں دی، تو انہوں نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔