Bharat Express DD Free Dish

Pakistan Army Chief

پاکستان میں حالیہ آئینی ترمیم نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) بنا دیا گیا ہے، جس کے بعد ان کے اختیارات ناقابلِ یقین حد تک بڑھ گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے لیے نئی مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔

پاکستان کی پارلیمنٹ نے جمعرات کو ایک متنازع آئینی ترمیم منظور کر لی جس کے تحت صدر مملکت اور موجودہ آرمی چیف کو تاحیات استثنیٰ حاصل ہو گیا ہے۔ اس ترمیم کو اپوزیشن نے جمہوری اداروں پر ایک سنگین حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عدلیہ کی خودمختاری اور سول بالادستی دونوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔

پاکستان ایک بار پھر اُس دور کی دہلیز پر کھڑا ہے، جب ملک میں جمہوریت صرف نام کی رہ گئی تھی اور اصل طاقت فوج کے ہاتھوں میں تھی۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کی حکومت آئین میں ایسی بڑی ترمیم کرنے جا رہی ہے جس کے بعد آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے اختیارات میں بے تحاشہ اضافہ ہو جائے گا۔

امریکہ دورے کے دوران عاصم منیر نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر بھارت نے دریائے سندھ پر ڈیم بنایا تو پاکستان اپنے پانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے ’’ہر قیمت‘‘ ادا کرے گا۔ عاصم منیر نے کشمیر کو پاکستان کی ’’شہ رگ‘‘ قرار دیا تھا اور کہا کہ یہ بھارت کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ ایک ’’غیر حل شدہ بین الاقوامی مسئلہ‘‘ ہے۔

16 اپریل کو منیر نے وزیر اعظم شریف کی موجودگی میں اسلام آباد میں تارکین وطن پاکستانیوں کی کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے وہاں موجود لوگوں سے کہا کہ وہ یہ نہ بھولیں کہ وہ ایک ’اعلیٰ نظریہ اور ثقافت‘ سے وابستہ ہیں۔

پاکستان نے امریکہ کی جانب سے ملک کے مختلف تجارتی اداروں پر عائد حالیہ پابندیوں کی بھی مذمت کی اوراسے بغیر کسی مشاورت، ثبوت یا دلیل کے یکطرفہ فیصلہ قرار دیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے جمعرات کے روز ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا، ’’ہم امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے بل سے آگاہ ہیں۔ یہ افراد کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے نہ کہ امریکہ اور پاکستان کے وسیع تر تعلقات کی۔‘‘

پی ٹی آئی نے فوجی عدالتوں میں شہریوں کے خلاف جاری مقدمات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اس میں الزام لگایا گیا کہ حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ 9 مئی کے واقعے کو عمران خان اور پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے لیڈر فیصل کریم کنڈی نے بھی عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاست میں فوجی مداخلت کو دعوت دے رہی ہے۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ سیاست میں فوجی مداخلت کے خلاف رہی ہے۔

اس سے قبل میڈیا کے ایک حصے میں یہ خبر آئی تھی کہ عمران نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی پارٹی کے کچھ رہنما اب بھی اسٹیبلشمنٹ (فوج) سے رابطے میں ہیں۔

ووٹوں کی گنتی ابھی جاری ہے۔ دھاندلی، چھٹپٹ تشدد اور موبائل انٹرنیٹ کی بندش کے الزامات کے درمیان جمعرات کے روز ملک میں انتخابات ہوئے۔ پاکستان میں فوج کو بہت طاقتور سمجھا جاتا ہے، جس نے گزشتہ 75 سالوں میں سے نصف سے زائد عرصے تک حکومت کی ہے۔