جاپان کے شمال مشرقی علاقے ایواتے پریفیکچر کے ساحل کے قریب اتوار کی صبح 6.1 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ جاپان کے محکمۂ موسمیات (جے ایم اے) کے مطابق اس زلزلے کے بعد سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بج کر 21 منٹ پر آیا اور اس کا مرکز زمین کی سطح سے 41 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔ زلزلے کی زیادہ سے زیادہ شدت جاپان کے زلزلہ پیمانے پر 5- (لوئر فائیو) ریکارڈ کی گئی، جو آوموری پریفیکچر کے ہاچینوہے شہر اور ایواتے پریفیکچر کے فودائی گاؤں میں محسوس کی گئی۔ اس کے علاوہ ہوکائیڈو سے کانتو-کوشِن خطے تک مختلف علاقوں میں 1 سے 4 درجے تک کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
25 جون کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں مزید احتیاط کی ہدایت
جے ایم اے نے بتایا کہ یہ زلزلہ اسی سمندری علاقے میں آیا ہے جہاں 25 جون کو 6+ شدت کا طاقتور زلزلہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 25 جون کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً ایک ہفتے تک 6+ شدت تک کے مزید زلزلوں کا امکان برقرار رہ سکتا ہے۔ اسی لیے مقامی باشندوں کو مسلسل چوکنا رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکام نے یہ بھی خبردار کیا کہ جہاں شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں وہاں چٹانیں گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم ادارے نے واضح کیا کہ موجودہ زلزلہ ہوکائیڈو اور سانریکو کے ساحلی علاقوں کے لیے کسی خصوصی انتباہ کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔
وزیراعظم سنائے تاکائیچی نے عوام سے محتاط رہنے کی اپیل کی
جاپان کی وزیر اعظم سنائے تاکائیچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ موجودہ زلزلے کے بعد سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت 25 جون کے زلزلے کے بعد وزیر اعظم کے دفتر میں قائم کرائسس مینجمنٹ آفس کے ذریعے صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو نقصانات کا فوری جائزہ لینے، عوام کو بروقت اور درست معلومات فراہم کرنے اور تمام ضروری امدادی و حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ متاثرہ علاقوں میں حالیہ دنوں کے دوران مسلسل زلزلے آ رہے ہیں، اس لیے عوام روزمرہ زندگی میں بھی احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور آئندہ کسی بھی ممکنہ زلزلے کے لیے چوکس رہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




