لفظوں کے ذریعے دنیا کو چھو لینے والے ساگر سرحدی صرف شاعر یا فلم ساز ہی نہیں، بلکہ ایک نہایت حساس انسان بھی تھے۔ تقسیم کا کرب وہ کبھی فراموش نہ کر سکے۔ فطرت سے ان کا گہرا رشتہ تھا۔ ان کے لفظوں میں گاؤں کی مٹی، دریا کی آواز اور سرحدوں کی اذیت صاف محسوس ہوتی تھی۔
ساگر سرحدی کی پیدائش اور بچپن
11 مئی 1933 کو متحدہ ہندوستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں بافا (ایبٹ آباد) میں پیدا ہونے والے ساگر سرحدی کا بچپن خوبصورت وادیوں، بہتے دریاؤں، سرسبز پہاڑوں اور تاروں بھرے آسمان کے درمیان گزرا۔ لیکن بچپن میں ہی ماں کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اس کے باوجود وہ زندگی کے سفر میں آگے بڑھتے رہے۔جب وہ محض 14 برس کے تھے تو ملک تقسیم ہو گیا۔ ایک ایسا طوفان آیا جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ خاندان کے ساتھ پہلے سری نگر پہنچے اور پھر دہلی کے ریفیوجی کیمپ میں آ بسے۔ ایک چھوٹے سے گاؤں سے بے گھر ہو کر وہ مہاجر بن گئے۔
تقسیم کے حادثے نے دل میں کئی سوال پیدا کیے
اس حادثے نے ان کے دل میں کئی سوال پیدا کیے: سرحدیں کیوں بنتی ہیں؟ تقسیم کیوں ہوتی ہے؟ لوگ اپنی جڑوں سے کیوں اکھاڑ دیے جاتے ہیں؟ اسی درد نے انہیں اپنا نام بدلنے پر مجبور کیا۔ گنگا ساگر تلوار، “ساگر سرحدی” بن گئے اور سرحد کے کرب کو اپنے نام کا حصہ بنا لیا۔
ممبئی کا سفر
ممبئی آنے کے بعد بھی ان کی زندگی مسلسل جدوجہد سے بھری رہی۔ انہوں نے کئی نوکریاں کیں، مگر نوکری ان کا مقصد نہیں تھی، اس لیے کہیں مستقل نہ رہ سکے۔ دراصل ان کے اندر تخلیقی صلاحیتوں کا ایک خزانہ موجود تھا۔ پھر انہوں نے قلم اور کاغذ اٹھایا اور اردو میں ڈرامے لکھنے شروع کیے۔‘شہید بھگت سنگھ’، ‘ہیر رانجھا’ اور ‘تنہائی’ جیسے ڈرامے بے حد مقبول ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔
فلمی کیرئر کا آغاز
1974 میں فلم ’گونج‘ سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ یش چوپڑا سے ملاقات کے بعد ان کا کریئر نئی بلندیوں کو چھونے لگا۔ ’کبھی کبھی‘ کے مکالمے اور اسکرپٹ انہوں نے تحریر کیے۔ اس کے بعد ’سلسلہ‘، ’چاندنی‘، ’نوری‘ اور ’بازار‘ جیسی فلمیں آئیں۔1982 میں انہوں نے فلم ’بازار‘ کی ہدایت کاری بھی کی، جس میں نصیرالدین شاہ، سمیتا پاٹل اور فاروق شیخ جیسے اداکار شامل تھے۔بعد میں جب راکیش روشن نے اپنے بیٹے رتیک روشن کو لانچ کرنے کا فیصلہ کیا تو فلم ‘کہو نا پیار ہے’ کے مکالمے لکھنے کے لیے ساگر سرحدی کو منتخب کیا گیا۔ اس فلم کے گیت آج بھی بے حد مقبول ہیں۔22 مارچ 2021 کو ممبئی میں ساگر سرحدی نے آخری سانس لی، مگر ان کے لفظ آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

