Kamal Haasan Faces Death Threat Controversial Remarks: سپراسٹارس کواپنے بیانوں کی وجہ سے فینس کی ناراضگی سے متعلق قانونی پریشانیوں تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی بار تو انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملتی ہیں۔ راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ کمل ہاسن کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ تین اگست، 2025 کو چنئی میں ہو رہے اگرم فاؤنڈیشن کی 15ویں سالگرہ سیلبریشن کے دوران کمل ہاسن نے سناتن سے متعلق کچھ ایسا کہا، جسے متنازعہ قرار دے کر نہ صرف لوگوں نے انہیں ٹرول کیا۔ ساتھ ہی انہیں جان سے مارنے کی دھمکی تک دی۔ کمل ہاسن نے کہا تھا کہ صرف تعلیم ہی ایک واحد راستہ ہے جو سناتن کی زنجیروں کو توڑ سکتی ہے۔ کمل ہاسن اس سے پہلے بھی اپنے بیانوں کی وجہ سے ٹرول ہوچکے ہیں۔
انوراگ کشیپ کو مانگنی پڑی معافی
فلمسازانوراگ کشیپ بھی کچھ دنوں پہلے اپنی فلم ’پھولے‘ کے دوران برہمن سماج کے اوپرایک متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا- “I will urinate on Brahmins. Any problem?” جس کے بعد سوشل میڈیا پران کے خلاف زبردست ٹرولنگ شروع ہوگئی تھی۔ ان کے خلاف ایف آئی آراورقانونی کارروائی بھی ہوئی۔ حالانکہ معاملہ سنگین ہونے کے بعد انوراگ کشیپ نے معافی بھی مانگ لی تھی۔
فرح خان پرمذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگا
کوریوگرافراورفلمسازفرح خان بھی ہولی کے موقع پراپنے بیان پرتنازعہ میں الجھ گئیں۔ ٹیلی ویژن شوماسٹرشیف کے ایک ایپی سوڈ کے دوران، فرح نے ہولی منانے کے بارے میں ایک بیان دیا، جس سے ان کے مداح ناراض ہوگئے۔ انہوں نے ہولی کو “festival of chhapris” (چھپریوں کا تہوار) کہہ دیا تھا، جس کے بعد ان کے خلاف مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی شکایت درج کرائی گئی۔
شتروگھن سنہا بھی اسی فہرست میں شامل
شتروگھن سنہا بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ انہوں نے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے پرکہا- ”یہ ہندو-ہندو کیوں کہہ رہے ہیں؟ ہندو-مسلم سبھی وہاں بھارتیہ (ہندوستانی) ہیں۔“ انہوں نے اسے ”پروپیگنڈہ وار“ بتایا اورساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ایسے وقت میں ہمیں کشیدگی بڑھانے والی باتیں نہیں کرنی چاہئے۔ اس کے بعد ہی سوشل میڈیا پرکئی لوگوں نے شتروگھن سنہا کو اس معاملے کی پوری جانکاری نہیں ہونے کی بات کہہ کرکافی ٹرول کیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

