Bharat Express DD Free Dish

Rajpal Yadav: چیک باؤنس کیس میں راجپال یادو پر دہلی ہائی کورٹ سخت، ادائیگی میں تاخیر پر عدالت برہم

اس سے قبل مئی 2024 میں ایک سیشن عدالت نے چیک باؤنس کیس میں راجپال یادو کو قصوروار قرار دیتے ہوئے چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد میں دہلی ہائی کورٹ نے اس سزا پر روک لگا دی تھی کیونکہ اداکار کے وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ دونوں فریق آپسی رضامندی سے معاملہ حل کر لیں گے۔

نئی دہلی: معروف بالی ووڈ اداکار راجپال کے خلاف چیک باؤنس کیس میں دہی ہائی کورٹ نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے معاملے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے اداکار کے بدلتے موقف پر ناراضگی کا اظہار کیا اور واضح الفاظ میں کہا کہ عدالت کی نرمی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اس معاملے کی سماعت جسٹس سوارانا کانتا شرما کر رہی تھیں۔یہ مقدمہ Murli Projects Private Limited کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران عدالت نے راجپال یادو اور ان کے وکیل کے بیانات میں تضاد پر سخت تبصرہ کیا۔ جج نے کہا کہ ایک طرف اداکار ادائیگی پر آمادگی ظاہر کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ان کے وکیل کہہ رہے ہیں کہ اداکار پہلے ہی جیل جا چکے ہیں، اس لیے رقم ادا نہیں کریں گے۔ عدالت نے کہا کہ اگر اداکار ادائیگی کے لیے تیار ہیں تو پھر کیس کی سماعت کی ضرورت ہی نہیں، رقم ادا کر دی جائے۔سماعت کے دوران راجپال یادو نے عدالت سے 6 کروڑ روپے ادا کرنے کے لیے 30 دن کی مہلت مانگی،قابل ذکر بات  یہ ہے کہ عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی۔ جسٹس سوَرن کانتا شرما نے واضح طور پر کہا کہ “نہیں کا مطلب نہیں” اور مزید وقت دینے سے انکار کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اس سے قبل مئی 2024 میں ایک سیشن عدالت نے چیک باؤنس کیس میں راجپال یادو کو قصوروار قرار دیتے ہوئے چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد میں دہلی ہائی کورٹ نے اس سزا پر روک لگا دی تھی کیونکہ اداکار کے وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ دونوں فریق آپسی رضامندی سے معاملہ حل کر لیں گے۔ کیس کو حل کرنے کے لیے معاملہ دہلی ہائی کورٹ کے میڈی ایشن سینٹر بھی بھیجا گیا تھا، تاہم کئی بار مہلت دینے کے باوجود طے شدہ رقم ادا نہیں کی گئی۔عدالت نے پہلے راجپال یادو کو تقریباً ڈھائی کروڑ روپے قسطوں میں جمع کرانے کی اجازت دی تھی، لیکن اداکار اس رقم کو بھی جمع کرانے میں ناکام رہے۔ جس کے بعد فروری 2026 میں عدالت نے انہیں جیل حکام کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم دیا۔ 5 فروری کو راجپال یادو نے سرنڈر کیا اور کچھ عرصہ جیل میں بھی رہے۔ بعد ازاں انہوں نے ڈیڑھ کروڑ روپے جمع کرائے جس کے بعد عدالت نے ان کی سزا پر عبوری روک لگا دی۔

شکایت کنندہ کمپنی کے وکیل اونیت سنگھ سکہ نے عدالت کو بتایا کہ اداکار نے تقریباً 10 کروڑ روپے کی ادائیگی نہیں کی ہے، جبکہ ابھی بھی تقریباً 7.75 کروڑ روپے بقایا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف جیل کی سزا کاٹ لینے سے مالی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی، اسی لیے یہ کیس Negotiable Instruments Act Section 138 کے تحت دائر کیا گیا۔عدالت نے سماعت کے دوران دونوں فریقوں کو مصالحت کا مشورہ بھی دیا۔ شکایت کنندہ کمپنی نے کہا کہ اگر 6 کروڑ روپے ادا کیے جائیں تو سمجھوتے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سماعت میں شامل راجپال یادو نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ ہر حکم پر عمل کریں گے، تاہم جب انہوں نے ادائیگی کے لیے 30 دن کی مہلت مانگی تو عدالت نے اسے مسترد کر دیا۔فی الحال معاملے میں فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے اور اب سب کی نظریں دہلی ہائی کورٹ کے حتمی فیصلے پر ٹکی ہوئی ہیں، جو طے کرے گا کہ اداکار کو بقایا رقم ادا کرنی ہوگی یا مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read