ماضی کے سنیما پر نظر ڈالیں تو کئی ایسے ستارے نظر آتے ہیں جنہوں نے نہ صرف شاندار اداکاری کی بلکہ یادگار فلمیں بھی دیں۔ ایسے ہی ایک باکمال اداکار فاروق شیخ تھے، جنہیں ناظرین سے لے کر فلم سازوں تک سب ایک شائستہ، خوش اخلاق اور نرم گفتار انسان قرار دیتے تھے۔ ہندی سنیما کے متوازی اور مرکزی دھارے دونوں میں اپنی الگ پہچان بنانے والے اس اداکار کی آج سالگرہ منائی جا رہی ہے۔
فاروق شیخ متوازی سنیما کے نمایاں ستارے
فاروق شیخ متوازی سنیما کے نمایاں ستاروں میں شمار ہوتے تھے، جنہوں نے گرم ہوا سے فلمی سفر کا آغاز کیا اور اپنی ہر فلم کے ذریعے ناظرین کے دلوں میں خاص جگہ بنائی۔ انہوں نے ٹی وی پر جینا اسی کا نام ہے جیسے مقبول شو کی میزبانی بھی کی، جبکہ تھیٹر میں بھی سرگرم رہے۔
فاروق شیخ کا یوم پیدائش
فاروق شیخ 25 مارچ 1948 کو امرو لی، سورت، گجرات میں پیدا ہوئے۔ وہ نہ صرف بہترین اداکار تھے بلکہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے کامیاب میزبان بھی رہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سینٹ میری اسکول ممبئی سے حاصل کی، پھر سینٹ زیویئر کالج میں داخلہ لیا اور بعد میں سدھارتھ کالج آف لا سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ قانون کے آخری سال کے دوران انہیں ہدایتکار ایم ایس ستیو کی فلم ’’گرم ہوا‘‘ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم میں انہوں نے بلراج ساہنی کے ساتھ کام کیا اور انہیں صرف 750 روپے معاوضہ ملا تھا۔ ’’گرم ہوا‘‘ کو بھارتی نیو ویو سنیما کی نمائندہ فلم سمجھا جاتا ہے۔1973 میں ریلیز ہونے والی ’’گرم ہوا‘‘ کو بھارتی سنیما کی انقلابی فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ عصمت چغتائی کی کہانی پر مبنی اس فلم میں تقسیمِ ہند کے بعد آگرہ میں ایک مسلم خاندان کی جدوجہد اور شناخت کے بحران کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ اس فلم میں بلراج ساہنی کی اداکاری کے ساتھ فاروق شیخ کی پرفارمنس کو بھی خوب سراہا گیا۔
فاروق شیخ نہ صرف بہترین اداکار تھے بلکہ کامیاب میزبان بھی رہے
فاروق شیخ نہ صرف بہترین اداکار تھے بلکہ کامیاب میزبان بھی رہے۔ وہ ریڈیو پر کوئز شو کی میزبانی کرتے تھے اور ممبئی دوردرشن کے پروگرام یووا درشن اور ینگ ورلڈ کے ذریعے گھر گھر مقبول ہو گئے۔ 1977 میں انہوں نے ستیہ جیت رے کی فلم شطرنج کے کھلاڑی میں اہم کردار ادا کیا۔ 1978 میں مظفر علی کی فلم گمن میں انہوں نے ممبئی آئے ایک ٹیکسی ڈرائیور کا کردار نبھایا، جو گھر واپس نہیں جا پاتا۔ اس فلم میں ان کی اداکاری آج بھی ناظرین کو متاثر کرتی ہے۔
ان کی دیگر اہم فلموں میں نوری، چشم بدور، کتھا، ساتھ ساتھ، کسی سے نہ کہنا، رنگ برنگی، ایک پل، انجمن، فاصلے اور بازار شامل ہیں۔ ’’چشم بدور‘‘ ان کی سب سے کامیاب اور مقبول فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ فاروق شیخ 1977 سے 1989 تک فلموں میں سرگرم رہے اور 1988 سے 2000 تک ٹیلی ویژن پر کام کرتے رہے۔ 2008 میں انہوں نے دوبارہ فلمی دنیا میں واپسی کی اور لاہور، یہ جوانی ہے دیوانی، شنگھائی اور کلب 60 جیسی فلموں میں اداکاری کی۔28 دسمبر 2013 کو دبئی میں دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہو گیا، لیکن اپنی شاندار اداکاری کے باعث وہ آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


