Bharat Express DD Free Dish

Rahmatullah




Bharat Express News Network


اتر پردیش میں ڈسکام کی نجکاری کوئی اچانک فیصلہ نہیں ہے بلکہ دیرینہ مسائل کا مستقل حل ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف تقسیم کار کمپنیوں کے ڈھانچے میں تبدیلی آئے گی بلکہ ریاست کے لاکھوں صارفین کی زندگیوں میں استحکام، سہولت اور اعتماد بھی آئے گا۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے دو ہفتے بعد، ہندوستانی مسلح افواج نے، ایک سخت جوابی کارروائی میں، منگل (6-7 مئی) کی دیر رات پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں پر میزائل حملے کیے، جس میں 100 دہشت گرد مارے گئے۔

امریکی سفارتخانے نے پاکستان میں موجود اپنے شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ اس میں انہوں نے کہا کہ لاہور اور اس کے گرد و نواح میں ڈرون حملوں کی اطلاعات ہیں۔ یہاں موجود تمام امریکی شہریوں کو پناہ میں جانے کی ہدایت جاری کی جارہی ہے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں ہندوستان کی تینوں افواج نے آپریشن سندور کے ذریعے پاکستان اور پاک مقبوضہ کشمیر کے متعدد مقامات پر میزائل حملوں کے ذریعے دہشت گردی کے اڈے تباہ کئے تھے جس میں قریب 100دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچایا گیا۔

آپریشن سندور کے حوالے سے اپنے پہلے بیان  میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ ہندوستانی فوج نے تیاری کے مطابق، بغیرکسی غلطی کے کارروائی کوانجام دیا ہے۔ یہ ہمارے لئے فخرکا لمحہ ہے۔ وزیراعظم مودی نے  اس کیلئے فوج کی تعریف کی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قوم افواج کی جرات کو سلام پیش کرتی ہے، ہر جارحیت کا بھرپور مقابلہ کریں گے، عالمی برادری بھارت کو غیرقانونی اقدامات پر جوابدہ بنائے، پاکستان امن کا حامی ہے لیکن خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے دو ٹاپ دہشت گرد میں سب سے پہلا نام حافظ عبدالمالک کا ہے جو لشکر کے بڑے آپریشنل کمانڈر بتائے جاتے ہیں۔ وہ مریدکے میں لشکر کے ہیڈ کوارٹر 'مرکز طیبہ' میں موجود تھے جہاں یہ حملہ ہوا۔

بھارت نے جن دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ان میں جیش محمد کا ہیڈکوارٹر بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کے کیمپوں کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔ سب سے بڑا حملہ بہاولپور میں کیا گیا جو کہ بین الاقوامی سرحد کے اندر تقریباً 100 کلومیٹر اندر واقع ہے۔

اس کارروائی کو دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی سخت پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی اس قدم کے بعد ہندوستان نے عالمی برادری کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور اپنے شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

اس آپریشن سندور کے تحت بہاولپور میں مولانا مسعود اظہر کے مدرسے پر چار میزائل داغے گئے ہیں۔ بڑی تعداد میں شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ اس  حملے میں مسعود اظہر کے خاندان  کے14 افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔