Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


وزیراعظم نے کہا کہ بھارت ایک تیزی سے ترقی کرتی ہوئی، معتبر اور قابلِ اعتماد عالمی طاقت بن چکا ہے۔ انہوں نے حالیہ جی-7 سربراہ اجلاس کے اپنے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے تمام رہنما بخوبی جانتے ہیں کہ آج کے بھارت کے لیے ’’نیشن فرسٹ‘‘ ہی سب سے بڑا اصول ہے۔

بھارتی سفارت خانے نے متاثرہ خاندانوں کی سہولت کے لیے ہیلپ لائن نمبرز +974-55647502 اور +974-55384683 جاری کیے ہیں۔ اس کے علاوہ [email protected] ای میل کے ذریعے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نےحادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم قومی ریلیف فنڈ سے ہر جاں بحق شخص کے لواحقین کے لیے 2 لاکھ روپے اور ہر زخمی کے لیے 50 ہزار روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا تھا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ہر متوفی کے اہل خانہ کو 5 لاکھ روپے اور شدید زخمی افراد کو 50 ہزار روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔

ریلائنس کمرشل فنانس اور ریلائنس ہوم فنانس کے سابق سربراہان پر سرکاری بینکوں کے فنڈز کے مبینہ غلط استعمال کا الزام۔ سی بی آئی نے 29 مئی کو آر کام معاملے میں پہلی چارج شیٹ داخل کی تھی، جس میں کمپنی، اس کے پانچ سینئر عہدیداروں اور 10 بینک افسران سمیت 16 افراد کو ملزم بنایا گیا تھا۔ 

حکومت کے مطابق بھارتی منفرد شناختی اتھارٹی (UIDAI) کی یہ پیش رفت محفوظ، صارف کی رضامندی پر مبنی اور مکمل طور پر پیپر لیس شناختی تصدیقی نظام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس نظام میں آدھار کی تصدیق کے لیے مرکزی ڈیٹا بیس تک فوری رسائی کی ضرورت نہیں ہوتی، جس سے صارفین کی رازداری اور ڈیٹا سکیورٹی مزید مضبوط ہوتی ہے۔

حالیہ سیاسی پیش رفت کو شیو سینا (ادھو) کے لیے ایک اور بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ پارٹی پہلے ہی اندرونی اختلافات اور ممکنہ بغاوت کی قیاس آرائیوں کا سامنا کر رہی تھی۔ حال ہی میں چھ ارکانِ پارلیمنٹ نے پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی، جس کے بعد جماعت میں ممکنہ تقسیم کی خبریں زور پکڑگئی تھیں۔

ادھو ٹھاکرے گروپ کے چھ ارکان پارلیمنٹ نے شندے گروپ کا دامن تھام لیا ہے، جن میں سنجے ہری بھاؤ جادھو، بھاؤ صاحب راجارام واکچورے، اوم پرکاش بھوپال سنگھ  نمبالکر، سنجے دینا پاٹل، سنجے اتم راؤ دیشمکھ اور ناگیش باپوراؤ پاٹل اشٹیکر شامل ہیں۔

ونسٹن چرچل نے یہاں تقریباً نو برس، مارگریٹ تھیچر نے تقریباً بارہ برس اور ٹونی بلیئر نے تقریباً ایک دہائی تک قیام کیا۔ تاہم 2016 کے بعد صورت حال یکسر بدل گئی۔ اس عرصے میں چھ وزرائے اعظم تبدیل ہو چکے ہیں، جبکہ صرف چار برس کے دوران چار مختلف شخصیات نے اس منصب کی ذمہ داری سنبھالی۔

ان تبصروں کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر تنقید دیکھنے میں آئی۔ متعدد صارفین نے ان بیانات کو خواتین کی توہین، غیر ذمہ دارانہ اور حساس جرائم کے بارے میں نامناسب قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

بھارتی مسلح افواج کی عملی تیاری اور دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے تقریباً 4 ہزار کروڑ روپے کے دیکھ بھال اور تکنیکی معاونت پیکیج کو منظوری دی گئی ہے۔