Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


وزارت داخلہ یا نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کی جانب سے جاری رپورٹ ہی مستند ذریعہ ہے۔ عوام، میڈیا اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ مواد کو پھیلانے سے گریز کریں۔

یہ معاملہ نہ صرف ملک کی مالیاتی سالمیت پر سوال کھڑے کرتا ہے بلکہ کارپوریٹ شفافیت اور بینکنگ ضوابط کی خلاف ورزی پر بھی گہری تشویش پیدا کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کیس کی پیش رفت پر سب کی نظریں جمی ہوں گی۔

راہل گاندھی نے یہ بیان16 دسمبر 2022 کو اپنی بھارت جوڑو یاترا کے دوران میڈیا اور عوام کے سامنے دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’لوگ بھارت جوڑو یاترا، گہلوت، سچن پائلٹ پر سوال کرتے ہیں لیکن چین نے 2000 مربع کلومیٹر زمین پر قبضہ کر لیا، 20 جوان شہید ہوئے، اروناچل میں فوجیوں کو پیٹا گیا، اس پر کوئی سوال نہیں کرتا۔‘‘

پولیس کے مطابق عمر انصاری کو عدالت میں جعلی دستاویزات پیش کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ معاملہ ان کے والد مختار انصاری کی ضبط شدہ جائیداد سے متعلق ایک عرضی سے جڑا ہوا ہے، جس کے ذریعے وہ جائیداد کو چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔

شیبو سورین کے انتقال سے ہندوستانی سیاست میں قبائلی حقوق کے ایک عظیم علمبردار کی کمی محسوس کی جا رہی ہے، جنہوں نے اپنے عزم اور جدوجہد سے جھارکھنڈ کی شناخت کو قائم کیا اور قبائلی برادری کو سیاسی خودمختاری کی راہ دکھائی۔

شیبو سورین نے اپنے چار دہائیوں پر محیط سیاسی کیریئر میں آٹھ بار لوک سبھا اور دو بار راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر خدمات انجام دیں۔ شیبو سورین کے انتقال سے جھارکھنڈ نے نہ صرف ایک تجربہ کار سیاسی رہنما بلکہ قبائلی حقوق کی ایک توانا آواز کو کھو دیا ہے۔

کانگریس اور اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں اور بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی کے مسئلے پر پارلیمنٹ میں کھلی، شفاف اور فوری بحث کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

یہ گرین ہائیڈروجن پلانٹ خود کفالت، پائیداری اور ماحولیاتی تحفظ کی جانب ایک مضبوط قدم ہے اور بھارت کی توانائی کے مستقبل کی ایک جھلک بھی ہے۔

ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ کی اصلاح کا یہ عمل انتخابی نظام کو شفاف، درست اور فرضی ووٹنگ سے پاک بنانے کی کوشش ہے۔ کمیشن نے بتایا کہ دو جگہ اندراج اور غیر مستحق ووٹروں کے اخراج کے ذریعے ووٹر لسٹ کو معیاری بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ایسی صورت میں جب الیکشن قریب ہیں اور تیجسوی یادو اپوزیشن کے نمایاں چہرے کے طور پر سرگرم ہیں، یہ تنازعہ ان کی انتخابی اہلیت اور سیاسی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اب نظر اس بات پر ہے کہ تیجسوی یادو وضاحت دے کر معاملہ سلجھاتے ہیں یا یہ تنازع انہیں مزید مشکلات میں ڈال دے گا۔