Urdu Conclave 2026

Supreme Court dismisses NCPCR’s plea: سپریم کورٹ نے کم عمر مسلم لڑکی کی شادی سے متعلق این سی پی سی آر کی عرضی کردی خارج، جانئے کورٹ نے کیا کہا؟

NCPCR  نے اپنی عرضی میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ آیا مسلم پرسنل لاء کے تحت کم عمری میں شادی کی اجازت ’’چائلڈ میرج ایکٹ 2006‘‘ پر فوقیت رکھتی ہے یا نہیں۔ ہائی کورٹ نے اپنے 2022 کے فیصلے میں کہا تھا کہ بلوغت کے بعد (تقریباً 15 سال کی عمر میں) مسلم لڑکی نکاح کرنے کی اہل ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (NCPCR) کی اُس عرضی کو خارج کر دیا، جس میں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے 2022 کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس فیصلے میں کہا گیا تھا کہ 16 سالہ مسلم لڑکی اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے اور ایسے جوڑے کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔

این سی پی سی آر کا کوئی حق نہیں

جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بینچ نے کہا کہ NCPCR اس معاملے کا فریق نہیں تھا اور اس کو چیلنج کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ بینچ نے اپنے ریمارکس میں کہا ’’یہ عجیب ہے کہ ایک ایسا ادارہ جو بچوں کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے، وہی ایسے فیصلے کو چیلنج کر رہا ہے جس نے دو بچوں کو تحفظ فراہم کیا۔‘‘

قانونی سوال پیدا نہیں ہوتا

NCPCR کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسی لڑکی جو 18 سال سے کم عمر ہے، صرف ذاتی قانون (Personal Law)  کی بنیاد پر شادی کرنے کی اہل سمجھی جا سکتی ہے۔ لیکن سپریم کورٹ نے عرضی خارج کرتے ہوئے کہا: ’’یہاں کوئی قانونی سوال پیدا نہیں ہوتا، اگر چیلنج کرنا ہے تو کسی مناسب معاملے میں کریں۔‘‘

دیگر عرضیاں بھی خارج

عدالت نے اس موقع پر NCPCR کی وہ دیگر عرضیاں بھی خارج کر دیں جن میں مختلف ہائی کورٹس کے اسی نوعیت کے فیصلوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔

مسلم پرسنل لاء بمقابلہ چائلڈ میرج ایکٹ

NCPCR  نے اپنی عرضی میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ آیا مسلم پرسنل لاء کے تحت کم عمری میں شادی کی اجازت ’’چائلڈ میرج ایکٹ 2006‘‘ پر فوقیت رکھتی ہے یا نہیں۔ ہائی کورٹ نے اپنے 2022 کے فیصلے میں کہا تھا کہ بلوغت کے بعد (تقریباً 15 سال کی عمر میں) مسلم لڑکی نکاح کرنے کی اہل ہے۔ سپریم کورٹ کی ایک اور بینچ پہلے ہی یہ حکم دے چکی ہے کہ پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ کسی اور معاملے میں نظیر کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

خواتین کمیشن کی رائے

اس سے پہلے نیشنل کمیشن فار ویمن (NCW) نے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا کہ مسلم لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر کو دیگر مذاہب کے مساوی یعنی 18 سال کیا جائے۔ این سی ڈبلیو کا مؤقف تھا کہ بلوغت پر شادی کی اجازت دینا غیر منطقی، امتیازی اور تعزیری قوانین کے منافی ہے۔

چائلڈ پروٹیکشن قوانین کی خلاف ورزی؟

NCPCR  نے عدالت میں کہا تھا کہ: چائلڈ میرج ایکٹ 2006 (PCMA) ایک سیکولر قانون ہے جو سب پر لاگو ہوتا ہے۔ POCSO ایکٹ کے مطابق 18 سال سے کم عمر بچہ کسی قسم کی رضامندی نہیں دے سکتا۔ لہٰذا ہائی کورٹ کا فیصلہ ان قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ہندوستان میں شادی کی عمر

فی الحال ملک میں شادی کی کم از کم عمر: خواتین کے لیے: 18 سال اور مردوں کے لیے: 21 سال ہے جبکہ مسلم پرسنل لاء میں لڑکی کی شادی بلوغت (عام طور پر 15 سال) پر جائز مانی جاتی ہے۔

 بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read