اسپین کے شمالی صوبے گلیشیا میں لگی بھیانک آگ نے تقریباً 4,000 مربع کلومیٹر رقبہ جلا کر خاک کر دیا ہے۔ یورو نیوز کے مطابق فائر فائٹرز مسلسل دسویں دن بھی درجن بھر مقامات پر لگی آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ اگرچہ آئبیریا میں درجہ حرارت میں کمی آئی ہے لیکن قومی موسمیاتی ایجنسی (AEMET) نے شمال مغربی اسپین میں آگ کے خطرے کو اب بھی ’’بہت زیادہ یا بے انتہا‘‘ قرار دیا ہے۔
مقامی افراد کی مزاحمت اور عالمی مدد
گلیشیا کے چھوٹے اور کم آبادی والے دیہات اس تباہی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ کئی جگہوں پر مقامی لوگوں نے فائر فائٹرز کے پہنچنے سے پہلے ہی خود آگ پر قابو پانے کی کوشش کی۔ اسپین کی وزارت داخلہ کے مطابق جرمنی سے فائر فائٹنگ یونٹس شمالی اسپین پہنچ گئے ہیں۔ اسی دوران ایکسٹریمادورا خطے (سرحدی علاقہ، پرتگال کے قریب) میں جاری آگ بجھانے کے لیے 20 سے زائد گاڑیاں تعینات کی گئیں۔
وزیراعظم کا دورہ اور اظہار تشویش
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور کہا کہ حالیہ ریکارڈ گرمی نے آگ کو مزید بھڑکایا ہے۔ گلیشیا میں پچھلے دنوں اوسط درجہ حرارت 42 ڈگری سیلسیس سے بھی اوپر رہا۔ سانچیز نے کہا: ’’سائنس اور عام فہم دونوں یہ بتاتے ہیں کہ موسم بدل رہا ہے، موسمیاتی ایمرجنسی بار بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہی ہے، جس کے اثرات دیہی علاقوں میں کسان اور مویشی پالنے والے سب سے زیادہ محسوس کر رہے ہیں۔‘‘
جانی و مالی نقصان
یورپی یونین کے یورپی فاریسٹ فائر انفارمیشن سسٹم کے مطابق اس سال اسپین میں لگی آگ سے اب تک 4 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 3,800 مربع کلومیٹر رقبہ جل کر تباہ ہو گیا ہے، جو لندن شہر کے رقبے سے دوگنا ہے۔ پولیس نے آگ لگانے کے شک میں 23 افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ 89 افراد زیر تفتیش ہیں۔
پرتگال بھی لپیٹ میں
پڑوسی ملک پرتگال میں بھی آگ کی صورتحال تشویشناک ہے۔ وہاں 3,700 فائر فائٹرز چار بڑے مقامات پر لگی آگ بجھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان جنگلاتی آگ سے 2,350 مربع کلومیٹر رقبہ متاثر ہوا اور 2 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جو اس مدت کے لیے گزشتہ دو دہائیوں کے اوسط نقصان سے پانچ گنا زیادہ ہے۔
ماہرین کا انتباہ
یورپی یونین کے کوپرنیکس کلائمٹ چینج سروس کے مطابق 1980 کی دہائی سے یورپ دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں دوگنی تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی گرمی اور خشکی کو بڑھا رہی ہے، جس سے جنگلاتی آگ کے خطرات مزید بڑھتے جا رہے ہیں۔ ماہرین فوری اور ہنگامی اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


