نئی دہلی — لوک سبھا میں بدھ کی دوپہر آئین (130ویں ترمیم) بل 2025 کی پیشی پر گزشتہ ایک دہائی میں نہ دیکھے گئے ہنگامہ خیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ یہ بل ایسے کسی بھی مرکزی یا ریاستی وزیر کو برطرف کرنے کی تجویز دیتا ہے جو بدعنوانی یا سنگین جرائم کے الزامات کا سامنا کر رہا ہو اور کم از کم 30 دن تک حراست میں رہا ہو۔ لوک سبھا میں آج مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تین اہم بل پیش کیے جن میں یہ شق شامل ہے کہ اگر کسی وزیر، وزیراعلیٰ، مرکزی وزیر یا وزیراعظم پر سنگین جرم کے الزامات کے تحت مسلسل 30 دن تک جیل میں رہنا پڑے تو انہیں عہدے سے معطل کر دیا جائے۔
بی جے پی اور ٹی ایم سی ارکان میں تلخ کلامی
ایوان کی کارروائی اس وقت مزید تلخ ہو گئی جب بی جے پی اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے ارکان ویل میں ایک دوسرے کے قریب پہنچ کر تلخ جملوں کا تبادلہ کرنے لگے، اور صورتحال تقریباً ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔
نعرے بازی اور کاغذ پھینکنے کا واقعہ
جیسے ہی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ یہ اور دیگر بل پیش کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، ٹی ایم سی کے ارکان ویل میں آ گئے اور نعرے بازی شروع کر دی۔ اس موقع پر اپوزیشن کی دیگر جماعتیں اس احتجاج میں شامل نہیں ہوئیں۔ بل پیش کے دوران اپوزیشن ارکان نے زبردست احتجاج کیا۔ کچھ ارکان لوک سبھا کی ویل میں آ گئے اور نعرے بازی کی، جبکہ بعض نے بل کی کاپیاں پھاڑ کر کاغذ کے ٹکڑے امت شاہ کی جانب پھینکے۔
Delhi: During the discussion on the Constitution Amendment Bill, opposition members tore copies of the bill and threw them at Union Home Minister Amit Shah.
Following the uproar, parliamentary proceedings were adjourned until 3 PM
(Video Courtesy: Sansad TV) pic.twitter.com/Uou2Aclr1w
— IANS (@ians_india) August 20, 2025
کانگریس کی مخالفت اور تنقید
کانگریس کے ارکان نے بل کی سخت مخالفت کی اور اس کی پیشی کو روکنے کی کوشش کی۔ کانگریس کے رکن کے سی وینوگوپال نے اپنے خطاب میں امت شاہ کی سہراب الدین شیخ انکاؤنٹر کیس میں گرفتاری کا ذکر کیا۔
الزام لگنے پر عہدے پر نہیں رہنا چاہیے
امت شاہ نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ یہ بل پارلیمانی مشترکہ کمیٹی (JPC) کو بھیجا جائے تاکہ تفصیلی غور کیا جا سکے۔ انہوں نے کانگریس رکن کے سی وینوگوپال کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا: ’’جب میں جھوٹے مقدمے میں جیل گیا تھا تو میں نے اخلاقی اصولوں کے مطابق استعفیٰ دے دیا تھا۔ عدالت کے ذریعے بے گناہ ثابت ہونے تک کسی آئینی عہدے پر برقرار نہیں رہنا چاہیے۔‘‘ امت شاہ نے مزید کہا: ’’ہم اتنے بے شرم نہیں کہ الزام لگنے کے بعد بھی عہدے پر قائم رہیں۔‘‘ ان کے مطابق اپوزیشن کو ہمیں اخلاقیات کا سبق نہیں دینا چاہیے، اور حکومت چاہتی ہے کہ ملک میں اخلاقی اقدار مضبوط ہوں۔
آئینی اور سیاسی بحث کی تیاری
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 30 دن کی گرفتاری کی صورت میں وزرا کو معطل کرنے کی شق سے آئینی اور سیاسی مباحث میں شدت آ سکتی ہے۔ یہ تینوں بل ملک کے آئینی ڈھانچے اور وفاقی نظام پر اثرانداز ہونے کے باعث اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن ارکان نے بل کو جمہوری اور آئینی اصولوں کے خلاف قرار دیا اور سخت مخالفت کا اعلان کیا۔ اب یہ تینوں بل جے پی سی کے زیر غور آئیں گے، جہاں ممکنہ ترامیم یا سفارشات دی جا سکتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

