Urdu Conclave 2026

Habiburrahman




Bharat Express News Network


مجازؔ اردو شاعری کا وہ چراغ ہے جو کم جلا، مگر اپنی روشنی میں سب کو جلتا ہوا دکھائی دیا۔ ان کا کلام اور ان کی شخصیت آج بھی ہمارے جذبات کے ساز پر بجتی ہے،ایک مسلسل دُھن کی طرح، جو وقت کے ساتھ مدھم نہیں پڑتی۔

راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر میں پانچ مہینوں میں جتنے ووٹرز کا اضافہ ہوا، اتنا اضافہ پچھلے پانچ سالوں میں نہیں ہوا تھا۔ ان کے مطابق ایک کروڑ سے زائد ووٹرز کا اضافہ ہوا، جس سے ریاستی انتخابات میں کانگریس اتحاد کو نقصان پہنچا۔

کانگریس صدر نے واضح کیا کہ مودی حکومت اس ناکامی کی ذمہ داری 70 سال پرانی کانگریس پر نہیں ڈال سکتی، کیونکہ یہ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے سامنے جھکاؤ نے ہندوستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

جگدیپ دھنکھڑ کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی نائب صدر کی نشست کے لیے 9 ستمبر کو انتخاب ہوگا۔ جمعرات سے الیکشن کمیشن کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے ساتھ ہی نامزدگی کا عمل بھی شروع ہو گیا ہے۔ اس طرح ملک کے اگلے نائب صدر کے انتخاب کی سیاسی بساط بچھنی شروع ہو گئی ہے۔

حالات اب بھی سنگین ہیں اور ہرگزرتا لمحہ یاتریوں کی سلامتی کے لیے قیمتی ثابت ہو رہا ہے۔ ملک بھر میں لوگ لاپتہ افراد کی بخیر واپسی کے لیے دعا گو ہیں جبکہ فوج اور ریسکیو ٹیمیں ہر ممکن کوشش میں مصروف ہیں۔

حکومت کا موقف ہے کہ ایسی تحریریں نہ صرف قانون و امن اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ نوجوانوں کے ذہنوں پر منفی اثرات ڈال کر معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ اسی بنا پر ان کتابوں کی اشاعت اور پھیلاؤ پر روک لگانا ضروری ہے۔

جیسے جیسے کھدائی اور جانچ آگے بڑھ رہی ہے مزید راز سامنے آنے کی توقع ہے۔ سچ کی پرتیں ابھی باقی ہیں اور ایس آئی ٹی ہر زاویے سے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔

کلیم عاجز کے شعری مجموعے نہ صرف ادبی حلقوں بلکہ عام قارئین میں بھی بے حد مقبول ہوئے۔ وہ لال قلعہ دہلی کے مشاعروں میں دہائیوں تک بہار کی نمائندگی کرتے رہے۔ انہیں حکومت ہند کی جانب سے پدم شری کے اعزاز سے نوازا گیا۔ 

پنجاب کے وزیرتعلیم اور سری آنندپور صاحب سے ایم ایل اے ہرجوت سنگھ بینس نے اکال تخت صاحب کے سامنے پیش ہو کر ’تنخیا‘ (مذہبی غلطی کے مرتکب) قرار دیے جانے پر معافی مانگی اور سکھ مذہبی عدالت کی طرف سے دی گئی مذہبی سزا کو عاجزی کے ساتھ قبول کیا۔

صدر مارکوس کے اس دورے نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو مزید مستحکم کیا بلکہ انڈو پیسیفک خطے میں باہمی تعاون، امن، ترقی اور جمہوری اقدار کے فروغ کا ایک نیا باب بھی کھولا۔